Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
862 - 881
سورۂ اِخلاص
سورۂ اِخلاص کا تعارف
مقامِ نزول:
	 سورئہ اِخلاص ایک قول کے مطابق مکی اور ایک قول کے مطابق مدنی ہے ۔( خازن، تفسیر سورۃ الاخلاص، ۴/۴۲۵)
رکوع اور آیات کی تعداد:
	 اس سورت میں  1رکوع، 4 آیتیں  ہیں ۔
’’سورۂ اِخلاص ‘‘ کے اَسماء اور ان کی وجہِ تَسْمِیَہ :
	مفسرین نے اس سور ت کے تقریباً20نام ذکر کئے ہیں  ان میں  سے 4 نام یہاں  ذکر کئے جاتے ہیں :
(1)… اس سورت میں  اللّٰہ تعالیٰ کی خالص توحید کا بیان ہے، اس وجہ سے اسے ’’سورۂ اِخلاص‘‘ کہتے ہیں ۔
(2)… اس سورت میں  یہ بتایا گیا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ ہر نقص و عیب سے بری اور ہر شریک سے پاک ہے،اس مناسبت سے اسے ’’سورۂ تنزیہہ‘‘ کہتے ہیں ۔
(3)…جس نے اس سورت سے تعلق رکھا وہ غیروں  سے الگ ہو جاتا ہے اس لئے اسے’’سورۂ تجرید‘‘ کہتے ہیں ۔
(4)…اسے پڑھنے والا جہنم سے نجات پا جاتا ہے اس بنا پر اسے ’’سورۂ نجات‘‘ کہتے ہیں ۔( صاوی، سورۃ الاخلاص، ۶/۲۴۴۹-۲۴۵۰، ملتقطاً)
سورۂ اِخلاص کے فضائل:
	 اَحادیث میں  اس سورت کی بہت فضیلتیں  وارد ہوئی ہیں ،ان میں  سے تین اَحادیث اور ایک وظیفہ یہاں  درج ذیل ہے۔
(1) …حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’کیا تم میں  سے کوئی اس سے عاجز ہے کہ وہ رات میں  قرآن مجید کا تہائی حصہ پڑھ لے؟صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ