Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
86 - 881
ترجمۂکنزُالعِرفان:  جیسے شیطان کی مثال جب اس نے آدمی سے کہا: ’’ کفر کر‘‘ پھر جب اس نے کفر کرلیا تو کہا: بیشک میں  تجھ سے بیزار ہوں ، بیشک میں  اس اللّٰہ سے ڈرتا ہوں  جو سارے جہانوں  کا رب ہے۔
{كَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ: جیسے شیطان کی مثال۔} اس آیت میں  منافقوں  اور یہودیوں  کی ایک مثال بیان کی جا رہی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ منافقوں  کا بنو نضیر کے یہودیوں  کے ساتھ سلوک ایسا ہے جیسے شیطان کی مثال کہ اس نے اپنے مکر و فریب سے آدمی کو کفر کرنے کا کہا اور جب اس نے کفر کرلیا تو اس سے براء ت کا اظہار کرتے ہوئے کہہ دیا کہ میں  تجھ سے بیزار ہوں  اوربیشک میں  اس اللّٰہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرتا ہوں  جو سارے جہان کا رب ہے۔ایسے ہی منافقوں  نے بنو نضیر کے یہود یوں  کو مسلمانوں  کے خلاف اُبھارا، جنگ پر آمادہ کیا ،اُن سے مدد کے وعدے کئے اور جب اُن کے کہنے سے یہودیوں  نے مسلمانوں  سے جنگ کی تو منافق اپنے گھروں  میں  بیٹھے رہے اور یہودیوں  کا ساتھ نہ دیا۔( خازن، الحشر، تحت الآیۃ: ۱۶، ۴/۲۵۱، مدارک، الحشر، تحت الآیۃ: ۱۶، ص۱۲۲۷، ملتقطاً)
مسلمانوں  کو کفر میں  مبتلا کرنے کیلئے شیطان کا ایک خطرناک طریقہ :
	یاد رہے کہ انسانوں  کو کفر ، گمراہی اور گناہ میں  مبتلا کرنے کے لئے شیطان مختلف راستے اختیار کرتا اور طرح طرح کے طریقے آزماتاہے ،ان میں  سے ایک راستہ یہ ہے کہ شیطان کسی کام کو بندے کے سامنے نیک بنا کر پیش کرتا ہے اور بندہ نیک عمل سمجھتے ہوئے وہ کام کرنا شروع کر دیتا ہے ،پھر شیطان اسے رفتہ رفتہ گناہ کی طرف لے جاتا ہے یہاں  تک کے بندہ گناہ میں  مبتلا ہو جاتا ہے ،پھر ا س گناہ سے ہونے والی رسوائی سے بندے کو خوفزدہ کرکے دوسرے گناہ پر مجبور کرتا ہے ،یوں  اس سے گناہ در گناہ کرواتا رہتا ہے اور آخر کار بندے کو کفر کرنے پر مجبور کر دیتا ہے اور جب بندہ کفر کر لیتا ہے تو شیطان اسے کفر کی اندھیری وادی میں  تنہا چھوڑ کر چلا جاتا ہے اور یہ بندہ کفر کی حالت میں  موت کا شکار ہو کر ہمیشہ کے لئے جہنم کے دردناک عذاب میں  مبتلا ہو جاتا ہے۔یہاں  اسی سے متعلق ایک عبرت انگیز حدیثِ پاک ملاحظہ ہو،چنانچہ نبی کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’بنی اسرائیل میں  ایک راہب تھا، شیطان نے ایک لونڈی کا گلادبایا اور اس کے مالکوں  کے دل میں  یہ بات ڈال دی کہ اس کا علاج (فلاں )راہب کے پاس ہے۔ چنانچہ وہ اسے لے کر راہب کے پاس آئے تو اس نے ان کی بات ماننے سے انکار کر دیا،وہ مسلسل اصرار کرتے رہے