كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْۚ-وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۚ(۱۵)
ترجمۂکنزالایمان: ان کی سی کہاوت جو ابھی قریب زمانہ میں ان سے پہلے تھے اُنھوں نے اپنے کام کا وبال چکھا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: (ان کی مثال)ان لوگوں کی مثال جیسی ہے جو ابھی قریب زمانے میں ان سے پہلے ہوئے ہیں انہوں نے اپنے کام کا وبال چکھا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔
{كَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ قَرِیْبًا: (ان کی مثال)ان لوگوں کی مثال جیسی ہے جو ابھی قریب زمانے میں ان سے پہلے ہوئے ہیں ۔ } اس آیت میں یہودیوں کی ایک مثال بیان کی گئی ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ان کا حال مشرکین جیسا ہے جنہوں نے جنگ ِ بدر میں رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ساتھ عداوت رکھنے کااور کفر کرنے کا وبال چکھا اور ذلت و رسوائی کے ساتھ ہلاک کئے گئے اوراس کے ساتھ ساتھ ان کے لیے آخرت میں جہنم کا دردناک عذاب ہے (تو دنیا و آخرت میں جو حشر ان مشرکوں کا ہوا وہی ان یہودیوں کا ہو گا)۔( خازن، الحشر، تحت الآیۃ: ۱۵، ۴/۲۵۱، مدارک، الحشر، تحت الآیۃ: ۱۵، ص۱۲۲۷، ملتقطاً)
كَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْ قَالَ لِلْاِنْسَانِ اكْفُرْۚ-فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓءٌ مِّنْكَ اِنِّیْۤ اَخَافُ اللّٰهَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ(۱۶)
ترجمۂکنزالایمان: شیطان کی کہاوت جب اُس نے آدمی سے کہا کفر کر پھر جب اس نے کفر کرلیا بولا میں تجھ سے الگ ہوں میں اللّٰہ سے ڈرتا ہوں جو سارے جہان کا رب۔