سورہِ نصر کی آیت نمبر 2سے حاصل ہونے والی معلومات:
اس آیت سے 6باتیں معلوم ہوئیں
(1)…صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی تعداد پانچ یا سات نہیں بلکہ ہزاروں میں ہے۔
(2)…فتحِ مکہ کے موقع پر اور فتحِ مکہ کے بعد ایمان لانے والوں کا ایمان قبول ہوا، اس میں حضرت ابو سفیان، حضرتِ امیر ِمعاویہ اورحضرتِ وحشی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ سب ہی شامل ہیں ۔
(3)…یہ لوگ بعد میں بھی دین پر قائم رہے کیونکہ ان کا دین میں داخل ہونا اس آیت سے ثابت ہے، لیکن دین سے نکل جانا کسی دلیل سے ثابت نہیں ، نیز اگر یہ لوگ مُرتد ہونے والے ہوتے تو اللّٰہ تعالیٰ ان کے ایمان کو اس شاندار طریقہ سے بیان نہ فرماتا ۔
(4)…اس آیت میں غیبی خبر دی گئی ہے۔یہ غیبی خبر فتحِ مکہ کے موقع پر پوری ہوئی اور لوگ مختلف جگہوں سے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی غلامی کے شوق میں گروہ در گروہ چلے آتے اورشرفِ اسلام سے مشرف ہوتے جاتے تھے۔
(5)… حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو اپنی زندگی کی خبر تھی کہ فتحِ مکہ اور ان واقعات کو بغیر دیکھے ختم نہ ہوگی۔
(6)…رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے زمانے میں بڑی سعادت مندی یہ تھی کہ حضورِاَ قدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی خدمت میں حاضر ہو کر ایمان لایا جائے۔
{فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُ: تو اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بیان کرو اور اس سے بخشش چاہو ۔} اس سورت کے نازل ہونے کے بعدتاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے’’ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ اَسْتَغفِرُ اللّٰہَ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ ‘‘کی بہت کثرت فرمائی۔
حضرت عبد اللّٰہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ یہ سورت حجۃُ الوداع میں مِنیٰ کے مقام پر نازل ہوئی ۔اس کے بعد آیت’’ اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ‘‘ نازل ہوئی، اس کے نازل ہونے کے بعد80 د ن حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے دنیا میں تشریف رکھی، پھر آیۂ ’’الْكَلٰلَةِؕ ‘‘ نازل ہوئی، اس کے بعد حضورِ اَقدس