Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
854 - 881
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُۙ(۱) وَ رَاَیْتَ النَّاسَ یَدْخُلُوْنَ فِیْ دِیْنِ اللّٰهِ اَفْوَاجًاۙ(۲) فَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَ اسْتَغْفِرْهُﳳ-اِنَّهٗ كَانَ تَوَّابًا۠(۳)
ترجمۂکنزالایمان: جب اللّٰہ کی مدد اور فتح آئے ۔اور لوگوں  کو تم دیکھو کہ اللّٰہ کے دین میں  فوج فوج داخل ہوتے ہیں  ۔تو اپنے رب کی ثناء کرتے ہوئے اس کی پاکی بولو اور اس سے بخشش چاہو بیشک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:جب اللّٰہ کی مدد اور فتح آئے گی۔ اور تم لوگوں  کو دیکھو کہ اللّٰہ کے دین میں  فوج درفوج داخل ہو رہے ہیں ۔تو اپنے رب کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بیان کرو اور اس سے بخشش چاہو، بیشک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔
{اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَ الْفَتْحُ: جب اللّٰہ کی مدد اور فتح آئے گی۔} اس سورت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب ! صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ ،جب آپ کے دشمنوں  کے خلاف آپ کے پاس اللّٰہ تعالیٰ کی مدد اور فتح آئے اور تم لوگوں  کو دیکھو کہ پہلے وہ ایک ایک دودو کر کے اسلام میں  داخل ہو رہے تھے اور اب وہ اللّٰہ تعالیٰ کے دین میں  فوج درفوج داخل ہورہے ہیں  تواس وقت اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی تعریف کرتے ہوئے اس کی پاکی بیان کرنا اور اس سے اپنی امت کے لئے بخشش چاہنا ،بیشک وہ بہت توبہ قبول کرنے والا ہے۔یاد رہے کہ اس آیت میں  فتح سے اسلام کی عام فتوحات مراد ہیں  یا خاص فتحِ مکہ مراد ہے۔( خازن، النّصر، تحت الآیۃ: ۱-۳، ۴/۴۲۳-۴۲۴، مدارک، النّصر، تحت الآیۃ: ۱-۳، ص۱۳۸۰، ملتقطاً)