Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
847 - 881
{فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ: تو تم اپنے رب کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو دونوں  جہاں  کی بے شمار بھلائیاں  عطا کی ہیں  اور آپ کو وہ خاص رتبہ عطا کیا ہے جو آپ کے علاوہ کسی اور کو عطا نہیں  کیا، تو آپ اپنے اس رب عَزَّوَجَلَّ کے لیے نماز پڑھتے رہیں  جس نے آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو،کوثر عطا کر کے عزت و شرافت دی تاکہ بتوں  کے پجاری ذلیل ہوں  اور بتوں  کے نام پر ذبح کرنے والوں  کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ  کے لئے اوراس کے نام پر قربانی کریں ۔اس آیت کی تفسیر میں  ایک قول یہ بھی ہے کہ نماز سے نمازِ عید مراد ہے۔( مدارک، الکوثر، تحت الآیۃ: ۲، ص۱۳۷۸، خازن، الکوثر، تحت الآیۃ: ۲، ۴/۴۱۶-۴۱۷، ملتقطاً)
{اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ:بیشک جو تمہارا دشمن ہے وہی ہر خیر سے محروم ہے۔} شانِ نزول: جب سیّد المرسَلین صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کے فرزند حضرت قاسم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا وصال ہوا تو کفار نے آپ کو اَبتر یعنی نسل ختم ہو جانے والا کہا اور یہ کہا کہ اب اُن کی نسل نہیں  رہی ،ان کے بعد اب ان کا ذکر بھی نہ رہے گا اوریہ سب چرچا ختم ہوجائے گا اس پر یہ سورئہ کریمہ نازل ہوئی اور اللّٰہ تعالیٰ نے اُن کفار کا بالغ رد فرمایا اور اس آیت میں  ارشاد فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، بیشک تمہارا دشمن ہی ہر بھلائی سے محروم ہے نہ کہ آپ، کیونکہ آپ کا سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا، آپ کی اولاد میں  بھی کثرت ہوگی اور آپ کی پیروی کرنے والوں  سے دنیا بھر جائے گی، آپ کا ذکر منبروں  پر بلند ہوگا ،قیامت تک پیدا ہونے والے عالِم اور واعظ اللّٰہ تعالیٰ کے ذکر کے ساتھ آپ کا ذکر کرتے رہیں  گے اور آخرت میں  آپ کے لئے وہ کچھ ہے جس کا کوئی وصف بیان ہی نہیں  کر سکتا تو جس کی یہ شان ہے وہ اَبتر کہاں  ہوا، بے نام و نشان اور ہر بھلائی سے محروم تو آپ کے دشمن ہیں  ۔( مدارک، الکوثر، تحت الآیۃ: ۳، ص۱۳۷۸، خازن، الکوثر، تحت الآیۃ: ۳، ۴/۴۱۷، ملتقطاً)
	اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس سورت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں  عاص بن وائل شقی نے جو صاحبزادہ ٔسیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کے انتقالِ پُر ملال پر حضور کو اَبتر یعنی نسل بُریدہ کہا۔ حقجَلَّ وَعَلا نے فرمایا: ’’اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَ‘‘ بیشک ہم نے تمہیں  خیر ِکثیر عطا فرمائی ۔کہ اولاد سے نام چلنے کو تمہاری رفعت ِذکر سے کیا نسبت ،کروڑوں  صاحب ِاولاد گزرے جن کا نام تک کوئی نہیں  جانتا ،اور تمہاری ثنا کا ڈنکا تو