Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
848 - 881
قیامِ قیامت تک اَکنافِ عالَم واطرافِ جہاں  میں  بجے گا اور تمہارے نامِ نامی کا خطبہ ہمیشہ ہمیشہ اَطباقِ فلک  آفاقِ زمین میں  پڑھا جائے گا۔ پھر اولاد بھی تمہیں وہ نفیس و طیب عطا ہوگی جن کی بقاء سے بقائے عالَم مَربوط رہے گی اس کے سوا تمام مسلمان تمہارے بال بچے ہیں  اور تم سا مہربان ان کے لیے کوئی نہیں  ،بلکہ حقیقت ِکار کو نظر کیجئے تو تمام عالَم تمہاری اولادِ معنوی ہے کہ تم نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ ہوتا ،اور تمہارے ہی نور سے سب کی آفرینش ہوئی ۔اسی لیے جب ابو البشر آدم تمھیں  یاد کرتے تو یوں  کہتے: ’’یَا اِبْنِیْ صُوْرَۃً وَاَبَایَ مَعْنًی‘‘اے ظاہر میں  میرے بیٹے اور حقیقت میں  میرے باپ ۔ پھر آخرت میں  جو تمہیں  ملنا ہے اس کا حال تو خدا ہی جانے ۔جب اس کی یہ عنایت ِبے غایت تم پر مبذول ہو تو تم ان اَشقیاء کی زبان درازی پر کیوں  ملول ہوبلکہ’’فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَ انْحَرْ‘‘ رب کے شکرانہ میں  اس کے لئے نماز پڑھو اورقربانی کرو۔ ’’اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ‘‘ جو تمہارا دشمن ہے وہی نسل بریدہ ہے کہ جن بیٹوں  پر اُسے ناز ہے یعنی عمرو وہشام  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا، وہی اُس کے دشمن ہوجائیں  گے اورتمہارے دین ِحق میں  آکر بوجۂ اختلافِ دین اس کی نسل سے جدا ہوکرتمہارے دینی بیٹوں  میں  شمارکئے جائیں  گے ۔ پھر آدمی بے نسل ہوتاتو یہی سہی کہ نام نہ چلتا۔ اس سے نامِ بدکاباقی رہنا ہزار درجہ بدتر ہے ۔ تمہارے دشمن کا ناپاک نا م ہمیشہ بدی ونفرین کے ساتھ لیا جائے گا، اورروزِ قیامت ان گستاخیوں  کی پوری سزا پائے گا۔  وَ الْعِیَاذُ بِاللّٰہ تعالٰی۔( فتاویٰ رضویہ، ۳۰/۱۶۷-۱۶۸)
	اس سے معلوم ہوا کہ حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کا اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  مقام اتنا بلند ہے کہ ان کے گستاخ کو ا س کی گستاخی کا جواب خود رب تعالیٰ دیتا ہے۔