Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
846 - 881
کے مختلف اَقوال ہیں ،ان سب اقوال کا خلاصہ یہ ہے کہ اے محبوب!بیشک ہم نے تمہیں  بے شمار خوبیاں  عطا فرمائیں  اور کثیر فضائل عنایت کرکے تمہیں  تمام مخلوق پر افضل کیا،آپ کو حسنِ ظاہر بھی دیا حسنِ باطن بھی عطا کیا، نسب ِعالی بھی، نبوت بھی، کتاب بھی، حکمت بھی، علم بھی،شفاعت بھی، حوضِ کوثر بھی، مقامِ محمود بھی،امت کی کثرت بھی، دین کے دشمنوں  پر غلبہ بھی، فتوحات کی کثرت بھی اور بے شمار نعمتیں  اور فضیلتیں  عطا کیں جن کی انتہاء نہیں ۔( خازن، الکوثر، تحت الآیۃ: ۱، ۴/۴۱۳-۴۱۴ملتقطاً)
آیت ’’ اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَ ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
	اس سے5 باتیں  معلوم ہوئیں 
(1)…اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو کوثر عطا کر دی ہے کیونکہ یہاں  یہ نہیں  فرمایا گیا کہ ہم آپ کو کوثر عطا کریں  گے بلکہ یہ فرمایا کہ بیشک ہم نے آپ کو کوثر عطا کر دی۔
(2)… اللّٰہ تعالیٰ کی اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ پر یہ عطا ان کے نبی اور رسول ہونے کی وجہ سے نہیں  بلکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی ذات کی وجہ سے ہے جو شانِ محبوبِیّت کی صورت ہے کیونکہ یہاں  یہ فرمایا ’’اَعْطَیْنٰكَ‘‘  ہم نے آپ کو عطا فرمائی،یہ نہیں  فرمایا کہ ’’اَعْطَیْنَا الرَّسُوْلَ‘‘ یا ’’اَعْطَیْنَا النَّبِیَّ‘‘ ۔
(3)… تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ پر یہ عطا کسی عبادت اور ریاضت کی وجہ سے نہیں  ہے بلکہ ان پر یہ عطا اللّٰہ تعالیٰ کے عظیم فضل اور احسان کی وجہ سے ہے کیونکہ یہاں  عطا کا ذکر پہلے ہوا اور عبادت کا ذکر بعد میں  ہوا۔
(4)…اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کو کوثر کا مالک بنا دیا ہے تو آپ جسے چاہیں  جو چاہیں  عطا کر سکتے ہیں  ۔
(5)…سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی مِدحت خود رب تعالیٰ فرماتا ہے۔اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :
اِنَّاۤ اَعْطَیْنٰكَ الْكَوْثَرَ		ساری کثرت پاتے یہ ہیں
ٹھنڈا ٹھنڈا میٹھا میٹھا			پیتے ہم ہیں  پلاتے یہ ہیں
	اور فرماتے ہیں :
اے رضاؔ خود صاحبِ قرآں  ہے مَدّاحِ حضور	تجھ سے کب ممکن ہے پھر مدحت رسولُ اللّٰہ کی