وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰىۙ-یُرَآءُوْنَ النَّاسَ وَ لَا یَذْكُرُوْنَ اللّٰهَ اِلَّا قَلِیْلًا٘ۙ(۱۴۲) مُّذَبْذَبِیْنَ بَیْنَ ذٰلِكَ ﳓ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِ وَ لَاۤ اِلٰى هٰۤؤُلَآءِؕ-وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَلَنْ تَجِدَ لَهٗ سَبِیْلًا‘‘(النساء:۱۴۲،۱۴۳)
کو فریب دینا چاہتے ہیں اور وہی انہیں غافل کرکے مارے گااور جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے ہیں توبڑے سست ہوکر لوگوں کے سامنے ریاکاری کرتے ہوئے کھڑے ہوتے ہیں اور اللّٰہ کو بہت تھوڑا یاد کرتے ہیں ۔درمیان میں ڈگمگا رہے
ہیں ، نہ اِن کی طرف ہیں نہ اُن کی طرف اور جسے اللّٰہ گمراہ کرے تو تم اس کے لئے کوئی راستہ نہ پاؤ گے۔
یاد رہے کہ نماز سے غفلت کرنے یعنی کبھی نماز پڑھ لینے اور کبھی چھوڑ دینے سے بھی بچنا ضروری ہے اور یہ خاص منافقوں کا وصف ہے اور نماز میں غفلت کرنا یعنی نمازکے دوران دیگر کاموں کے بارے میں سوچ بچار کرنے لگ جانا یا شیطان کے وسوسوں کو قبول کر لیناوغیرہ اس سے بھی بچنے کی کوشش کرنی چاہیے اگرچہ اس کی شناعت یعنی برائی کم ہے۔
{اَلَّذِیْنَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُوْنَ: جو اپنی نماز سے غافل ہیں ۔} نماز سے غفلت کی چند صورتیں ہیں ، جیسے پابندی سے نہ پڑھنا، صحیح وقت پر نہ پڑھنا، فرائض و واجبات کو صحیح طریقے سے ادا نہ کرنا، شرعی عذر کے بغیر با جماعت نہ پڑھنا، نماز کی پرواہ نہ کرنا، تنہائی میں قضا کر دینا اور لوگوں کے سامنے پڑھ لینا وغیرہ، یہ سب صورتیں وعید میں داخل ہیں جبکہ شوق سے نہ پڑھنا، سمجھ بوجھ کر ادا نہ کرنا، توجہ سے نہ پڑھنا بھی نماز سے غفلت میں داخل ہے البتہ یہ صورتیں اس وعید میں داخل نہیں جو ماقبل آیت میں بیان ہوئی ہے ۔
{اَلَّذِیْنَ هُمْ یُرَآءُوْنَ:وہ جو دکھاوا کرتے ہیں ۔} یعنی منافقین فرائض کی ادائیگی اللّٰہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے نہیں بلکہ لوگوں کو دکھانے کے لئے کرتے ہیں ۔( مدارک، الماعون، تحت الآیۃ: ۶، ص۱۳۷۷)
ریاکاری کی تعریف اور اس کی مذمت:
ریا کاری کی تعریف یہ ہے کہ اپنے عمل کو اس ارادے سے ظاہر کرنا کہ لوگ اسے دیکھ کراس کی عبادت گزاری