کی تعریف کریں ۔( قرطبی، الماعون، تحت الآیۃ: ۶، ۱۰/۱۵۴، الجزء العشرون)
کثیر اَحادیث میں ریا کاری کی مذمت بیان کی گئی ہے،یہاں ان میں سے دو اَحادیث ملاحظہ ہوں ،چنانچہ
(1)…حضرت ابو سعید خدری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :ہم لوگ مسیح دجال کا ذکر کر رہے تھے کہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ تشریف لائے اورارشاد فرمایا’’ میں تمہیں ایسی چیز کی خبر نہ دوں جس کا مسیح دجا ل سے بھی زیادہ میرے نزدیک تم پر خوف ہے؟ہم نے عرض کی:ہاں ، یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، ارشاد فرمایا’’وہ شرکِ خفی ہے،آدمی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے تو ا س وجہ سے طویل کرتا ہے کہ دوسرا شخص اسے نماز پڑھتا دیکھ رہا ہے۔( ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب الریاء والسمعۃ، ۴/۴۷۰، الحدیث: ۴۲۰۴)
(2)…حضرت ابوسعید بن ابو فضالہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’جب اللّٰہ تعالیٰ تمام اَوّلین و آخرین کو اس دن میں جمع فرمائے گا جس میں شک نہیں ، تو ایک مُنادی ندا کرے گا، جس نے کوئی کام اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے لیے کیا اور اس میں کسی کو شریک کرلیا وہ اپنے عمل کا ثواب اسی شریک سے طلب کرے کیونکہ اللّٰہ تعالیٰ شرک سے بالکل بے نیاز ہے۔( ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ الکہف، ۵/۱۰۵، الحدیث: ۳۱۶۵)
یاد رہے کہ اپنی نیت کو درست رکھتے ہوئے فرض عبادات کی بجا آوری اِعلانیہ کرنی چاہئے تاکہ لوگ فرض عبادات چھوڑنے کی ا س پر تہمت نہ لگائیں اور نفلی عبادات پوشیدہ کرنی چاہئیں کیونکہ ان میں تہمت لگنے کا اندیشہ نہیں ۔
وَ یَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ۠(۷)
ترجمۂکنزالایمان: اور بر تنے کی چیز مانگے نہیں دیتے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان:اور برتنے کی معمولی چیزیں بھی نہیں دیتے۔
{وَ یَمْنَعُوْنَ الْمَاعُوْنَ: اور برتنے کی معمولی چیزیں بھی نہیں دیتے۔} اس سے پہلی آیات میں خالق کے ساتھ منافقین