Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
832 - 881
قریش میں  سے بنو ہاشم کو چن لیا اور بنو ہاشم میں  سے مجھے چن لیا۔( مسلم، کتاب الفضائل، باب فضل نسب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم... الخ، ص۱۲۴۹، الحدیث: ۱(۲۲۷۶))
(2)…حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’لوگ اس معاملہ ِحکمرانی میں  قریش کے تابع ہیں  کہ مسلمان ان کے مسلمانوں  کے اور کافر ان کے کافروں  کے تابع ہیں ۔( بخاری، کتاب المناقب، باب قول اللّٰہ تعالی: یا ایّہا الناس... الخ، ۲/۴۷۳، الحدیث: ۳۴۹۵)
(3)…حضرت معاویہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’خلافت قریش میں  رہے گی جب تک یہ دین کے محافظ رہیں  اور جو کوئی ان سے عداوت رکھے گا اسے اللّٰہ تعالیٰ اوندھے منہ گرائے گا۔ (بخاری، کتاب المناقب، باب مناقب قریش، ۲/۴۷۴، الحدیث: ۳۵۰۰)
سورہِ قریش کی آیت نمبر3سے حاصل ہونے والی معلومات:
	اس آیت سے چند باتیں  معلوم ہوئیں ۔
(1)… کفار بھی شرعی عبادات کے مُکَلَّف ہیں  کہ ایمان لائیں  اور عبادت کریں ۔
(2) …کفر کی حالت میں  کوئی نیکی ،صحیح عبادت نہیں  کیونکہ کفارِ مکہ طواف، حج، عمرہ اور حاجیوں  کی خدمت کرتے تھے، مگر انہیں  کالعدم قرار دیا گیا۔
(3)… کعبہ مُعَظَّمہ عظمت و جلال والے رب تعالیٰ کی ذات کا مَظْہَر ہے۔
(4) …اللّٰہ تعالیٰ اگرچہ ہر ادنیٰ و اعلیٰ کا رب ہے لیکن اس کی رَبُوبِیّت کو اس کی اعلیٰ مخلوق کی طرف منسوب کرنا چاہیے، جیسے یوں  کہنا چاہئے اے محمد مصطفی صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے رب! اے کعبہ معظمہ کے رب !
لوگوں کو سہولت دینا اور معاشرے میں  امن قائم کرنا اسلام کی بنیادی ترجیح اور خصوصیت ہے:
	آیت نمبر4میں  بھوک کی حالت میں  کھانا دئیے جانے اور خوف کی حالت میں  امن دئیے جانے کا ذکر ہے، یاد رہے کہ بھوک اور خوف دو ایسی چیزیں  ہیں  جو معاشرے میں گناہوں  اور بدکاریوں  کی تعداد میں  اضافہ کرنے ، جرائم کی شرح بڑھانے ،بے امنی اور بد سکونی پھیلانے میں  انتہائی اہم اور مرکزی کردار ادا کرتی ہیں  جبکہ بھوک کا ختم ہو نا اور خوف کا دور ہو جانا معاشرے میں  پاکیزہ ماحول اور امن و امان کی فضا قائم کرنے میں بہت بڑے معاون ہیں  ۔اسے