حالت میں کھانا دیا جس میں وہ ان سفروں سے پہلے اپنے وطن میں کھیتی نہ ہونے کے باعث مبتلا تھے اور انہیں حرم شریف کے سبب اور مکہ والے ہونے کی وجہ سے خوف سے امن بخشا کہ کوئی ان کے ساتھ مزاحمت نہیں کرتا حالانکہ ان کے اَطراف اور قرب و جوار میں قتل و غارت گری ہوتی رہتی ہے، قافلے لٹتے ہیں اورمسافر مارے جاتے ہیں ۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ خوف سے امن بخشنے سے مراد یہ ہے کہ انہیں جذام کے مرض سے امن دیا کہ ان کے شہر میں انہیں جذام کا مرض نہ ہوگا اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی برکت سے انہیں عظیم خوف سے امان عطا فرمائی۔ (خازن، قریش، تحت الآیۃ: ۱-۴، ۴/۴۱۰-۴۱۲)
قریش کا تعارف:
قریش اس قبیلے کا نام ہے جس میں سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی ولادتِ مبارکہ ہوئی۔اس قبیلے کے اس نام کی مختلف وجوہات بیان کی گئی ہیں ،ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے آباؤ اَجداد میں سے ایک باکمال ہستی فہر بن مالک ہیں ، ان کا لقب ’’قریش‘‘ ہے اور ان کی اولاد’’ قریشی ‘‘ یا ’’قریش‘‘ کہلاتی ہے۔فہر بن مالک ’’قریش ‘‘اس لئے کہلاتے ہیں کہ ’’قریش‘‘ ایک سمندری جانور کا نام ہے جو بہت ہی طاقتور ہوتا ہے اور وہ سمندری جانوروں کو کھا ڈالتا ہے، یہ جانور تمام جانوروں پر ہمیشہ غالب ہی رہتا ہے کبھی مغلوب نہیں ہوتا اورچونکہ فہر بن مالک اپنی شجاعت اور خداداد طاقت کی بنا پر عرب کے تمام قبائل پر غالب تھے اس لئے تمام عرب والے ان کو ’’قریش‘‘ کے لقب سے پکارنے لگے۔( زرقانی علی المواہب، المقصد الاوّل فی تشریف اللّٰہ تعالی لہ علیہ الصلاۃ والسلام، ۱/۱۴۳-۱۴۵، سیرتِ مصطفی، ص۵۱- ۵۲)
قریش کے بارے میں اَحادیث:
یہاں قریش سے متعلق تین اَحادیث ملاحظہ ہوں
(1)…حضرت واثلہ بن اسقع رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اولاد میں سے کنانہ کو چن لیا اورکنانہ سے قریش کو چن لیا اور