دوسرے انداز میں یوں سمجھ لیجئے کہ جہاں لوگوں کو سہولیات دی جاتی ہیں اور ان کی ضروریّاتِ زندگی پورا کرنے کے خاطر خواہ انتظامات ہوتے ہیں وہاں گناہوں اور بدکاریوں کی شرح کم ہو گی اور جہاں امن و امان قائم ہے وہاں جرائم کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہو گی اور لوگ پُر سکون زندگی بسر کریں گے۔اگر موجودہ دور میں عالمی سطح پر لوگوں کے حالات کا جائزہ لیا جائے تویہ چیز واضح ہوگی کہ ان میں زنا، چوری، ڈاکے،لوٹ مار،چھینا جھپٹی،قتل و غارت گری،بے امنی،بد سکونی،بے چینی اور ان کے علاوہ طرح طرح کے جرموں ، گناہوں اور خوفوں کے عام ہونے کا بنیادی سبب بھوک ختم کرنے کے قابلِ قدر ذرائع کا نہ ہونا ،زندگی گزارنے کے لئے بنیادی سہولیات سے محروم ہونا اور امن و امان قائم کرنے کے لئے ضروری انتظامات کا نہ ہوناہے اور دینِ اسلام کے احکامات اور تعلیمات پر نظر کی جائے تو یہ حقیقت روشن دن سے زیادہ صاف نظر آئے گی لوگوں کی بھوک کو ختم کرنا، انہیں سہولیات فراہم کرنا ،پاکیزہ معاشرے کا قیام اور امن قائم کرنا اسلام کی بنیادی ترجیحات اور خصوصیات میں سے ہے،جیسے دین اسلام میں مالدار مسلمانوں پر زکوٰۃ فرض کی گئی اور بعض اعمال پر صدقات دینے کا حکم دیا گیااور ان کا حق دار ان لوگوں کو ٹھہرایا گیا جو انتہائی ضرورت مند ہیں اورفقیری ومسکینی کی حالت میں زندگی گزار رہے ہیں تاکہ ان کی ضرورت پوری ہونے اور فقر و مسکینی دور ہونے کا باقاعدہ انتظام ہو۔
اگر آج بھی لوگ دینِ اسلام کے احکام پر صحیح طریقے سے عمل کرنا شروع کر دیں اور ا س کی تعلیمات کو اپنے اوپر نافذ کر لیں تو یہ دنیا میں بھی زندگی کی بنیادی اور ضروری سہولیات پالیں گے ،پاکیزہ اور پر امن معاشرے میں زندگی بسر کرنے لگیں گے اور اللّٰہ تعالیٰ کے فضل سے آخرت میں بھی چین،سکون،راحتوں ،نعمتوں اور آسائشوں میں ہمیشہ کے لئے زندگی گزاریں گے۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں دین ِاسلام کے احکام اور اس کی تعلیمات پر صحیح طریقے سے عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔