بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍۙ(۱) اٖلٰفِهِمْ رِحْلَةَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیْفِۚ(۲)فَلْیَعْبُدُوْا رَبَّ هٰذَا الْبَیْتِۙ(۳)الَّذِیْۤ اَطْعَمَهُمْ مِّنْ جُوْ عٍ ﳔ وَّ اٰمَنَهُمْ مِّنْ خَوْفٍ۠(۴)ترجمۂکنزالایمان: اس لیے کہ قریش کو میل دلایا ۔ان کے جاڑے اور گرمی دونوں کے کوچ میں میل دلایا ۔ تو انہیں چاہیے اس گھر کے رب کی بندگی کریں ۔جس نے انہیں بھوک میں کھانا دیا اور انہیں ایک بڑے خوف سے امان بخشا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: قریش کو مانوس کرنے کی وجہ سے۔ا نہیں سردی اور گرمی دونوں کے سفر سے مانوس کرنے کی وجہ سے۔ توانہیں اِس گھر کے رب کی عبادت کرنی چاہئے ۔جس نے انہیں بھوک میں کھانا دیا اور انہیں خوف سے امن بخشا۔
{لِاِیْلٰفِ قُرَیْشٍ: قریش کو مانوس کرنے کی وجہ سے۔} اس سورت کاخلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ کی نعمتیں بے شمار ہیں ، ان میں سے ایک ظاہری نعمت یہ ہے کہ اُس نے قریش کو ہر سال میں دو سفروں کی طرف رغبت دلائی اور ان کی محبت ان کے دل میں ڈالی،چنانچہ قریش تجارت کے لئے سردی کے موسم میں یمن کا اور گرمی کے موسم میں شام کا سفر کرتے تھے اور ہر جگہ کے لوگ انہیں اہلِ حرم کہتے تھے اور اُن کی عزت و حرمت کرتے تھے ۔یہ امن کے ساتھ تجارتیں کرتے، ان تجارتوں سے فائدے اُٹھاتے اور مکہ مکرمہ جہاں نہ کھیتی ہے اور نہ معاش کے اسباب ، وہاں رہائش رکھنے کیلئے مسلسل سرمایہ پہنچاتے ،ان پر اللّٰہ تعالیٰ کی یہ نعمت ظاہر ہے اور یہ لوگ اس سے فائدہ اُٹھاتے ہیں ،تو انہیں چاہئے کہ وہ اس نعمت کا شکر ادا کرتے ہوئے کعبہ معظمہ کے رب کی عبادت کریں جس نے انہیں ان سفروں کے ذریعے بھوک کی اس