Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
818 - 881
فرمائی گئی ہو۔چوتھا قول یہ ہے اور اسی کی طرف دل جھکتا ہے کہ یہاں  زمانے سے تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کا مخصوص زمانہ مراد ہے جو کہ بڑی خیر و برکت کا زمانہ ہے،تو جس طرح اللّٰہ تعالیٰ نے ’’لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِ‘‘ میں  حضور پُر نور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے مَسکن و مکان کی قسم یاد فرمائی ہے اور جس طرح ’’لَعَمْرُكَ‘‘فرما کر آپ  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی عمر شریف کی قسم یاد فرمائی تو اسی طرح یہاں ’’وَالْعَصْرِ ‘‘ فرما کر اپنے حبیب صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کے مقدس زمانے کی قسم ارشاد فرمائی۔اس سے معلوم ہوا کہ سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ  سَلَّمَ کا زمانہ سب زمانوں  سے افضل ،رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کا شہر سب شہروں  سے افضل اور آپ صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی عمر مبارک سب کی عمروں  سے افضل ہے۔( خازن، العصر، تحت الآیۃ: ۱، ۴/۴۰۵، صاوی، والعصر، تحت الآیۃ: ۱، ۶/۲۴۱۹، ملتقطاً)
	اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں :
وہ خدانے ہے مرتبہ تجھ کو دیا نہ کسی کو ملے نہ کسی کو ملا	کہ کلامِ مجید نے کھائی شہا تِرے شہر و کلام و بقا کی قسم
{اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ: بیشک آدمی ضرور خسارے میں  ہے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے قسم ذکر کرکے فرمایا کہ بیشک آدمی ضرور نقصان میں  ہے کہ اس کی عمر جو اس کا سرمایہ اور اصل پُونجی ہے وہ ہر دم کم ہو رہی ہے مگر جو ایمان لائے اور انہوں  نے اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو ایمان اور نیک عمل کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو ان تکلیفوں  اور مشقتوں  پر صبر کرنے کی وصیت کی جو دین کی راہ میں  انہیں  پیش آئیں  تو یہ لوگ اللّٰہ تعالیٰ کے فضل سے خسارے میں  نہیں  بلکہ نفع پانے والے ہیں  کیونکہ ان کی جتنی عمر گزری وہ نیکی اور طاعت میں  گزری ہے۔( روح البیان، العصر، تحت الآیۃ: ۲-۳، ۱۰/۵۰۵-۵۰۶، خازن، العصر، تحت الآیۃ: ۲-۳، ۴/۴۰۵، ملتقطاً)
	 اسی طرح ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’اِنَّ الَّذِیْنَ یَتْلُوْنَ كِتٰبَ اللّٰهِ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً یَّرْجُوْنَ تِجَارَةً لَّنْ تَبُوْرَۙ(۲۹) لِیُوَفِّیَهُمْ اُجُوْرَهُمْ
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک وہ لوگ جو اللّٰہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں  اور نماز قائم رکھتے ہیں  اور ہمارے دئیےہوئے رزق میں  سے پوشیدہ اوراعلانیہ کچھ ہماری راہ میں