بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
وَ الْعَصْرِۙ(۱) اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍۙ(۲) اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ﳔ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۠(۳)
ترجمۂکنزالایمان: اس زمانۂ محبوب کی قسم ۔بیشک آدمی ضرور نقصان میں ہے ۔مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: زمانے کی قسم۔بیشک آدمی ضرور خسارے میں ہے۔مگر جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور ایک دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔
{وَالْعَصْرِ: زمانے کی قسم۔} اس آیت میں مذکور لفظ’’ عصر‘‘ کے بارے میں مفسرین کا ایک قول یہ ہے کہ اس سے زمانہ مراد ہے اور زمانہ چونکہ عجائبات پر مشتمل ہے اور اس میں احوال کا تبدیل ہونا دیکھنے والے کے لئے عبرت کا سبب ہوتا ہے اور یہ چیزیں اللّٰہ تعالیٰ کی قدرت و حکمت اور اس کی وحدانیّت پر دلالت کرتی ہیں اس لئے ہوسکتا ہے کہ یہاں آیت میں زمانے کی قسم مراد ہو۔دوسرا قول یہ ہے کہ ’’ عصر‘‘ اس وقت کو بھی کہتے ہیں جو سورج غروب سے پہلے ہوتا ہے، اس لئے ہوسکتا ہے کہ نقصان اٹھانے والے کے بارے میں اس وقت کی قسم یاد فرمائی گئی ہو جیسا کہ نفع اٹھانے والے کے بارے میں ’’ ضُحٰی‘‘ یعنی چاشت کے وقت کی قسم ذکر فرمائی گئی ۔ تیسرا قول یہ ہے کہ’’ عصر ‘‘سے نمازِ عصر مراد ہوسکتی ہے جو کہ دن کی عبادتوں میں سب سے آخری عبادت ہے اور اس کی فضیلت کی وجہ سے یہاں اس کی قسم ارشاد