ترجمۂکنزُالعِرفان: ہاں ہاں اب جلد جان جاؤ گے۔پھر یقینا تم جلد جان جاؤ گے۔یقینا اگر تم یقینی علم کے ساتھ جانتے (تو مال سے محبت نہ رکھتے)۔بیشک تم ضرور جہنم کو دیکھو گے۔پھر بیشک تم ضرور اسے یقین کی آنکھ سے دیکھو گے۔ پھر بیشک ضرور اس دن تم سے نعمتوں کے متعلق پوچھا جائے گا۔
{كَلَّاسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ: ہاں ہاں اب جلد جان جاؤ گے۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی 5آیات کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو!ہاں ہاں اب نزع کے وقت کثرتِ مال کی حرص اور اولاد پر فخر و غرور کرنے کے برے نتیجے کو جلد جان جاؤ گے،پھر یقینا تم قبروں میں جلد جان جاؤ گے، یقینا اگر تم مال کی حرص کا انجام یقینی علم کے ساتھ جانتے تو مال کی حرص میں مبتلا ہو کر آخرت سے غافل نہ ہوتے۔بیشک تم مرنے کے بعد ضرور جہنم کو دیکھو گے، پھر بیشک تم ضرور اسے یقین کی آنکھ سے دیکھو گے،پھر بیشک ضرور قیامت کے دن تم سے ان نعمتوں کے بارے میں پوچھا جائے گا جو اللّٰہ تعالیٰ نے تمہیں عطا فرمائی تھیں جیسے صحت، فراغت، امن ، عیش اور مال وغیرہ جن سے تم دنیا میں لذتیں اُٹھاتے تھے اور ان کے بارے میں یہ پوچھا جائے گا کہ یہ چیزیں کس کام میں خرچ کیں ؟ان کا کیا شکرادا کیا؟ اوران نعمتوں کا شکر ترک کرنے پر انہیں عذاب کیاجائے گا۔( خازن ، التّکاثر ، تحت الآیۃ : ۳-۸ ، ۴/۴۰۴ ، مدارک، التّکاثر، تحت الآیۃ: ۳-۸، ص۱۳۷۱، جلالین، التّکاثر، تحت الآیۃ: ۳-۸، ص۵۰۶، ملتقطاً)
قیامت کے دن ہر نعمت کے بارے میں پوچھا جائے گا:
اس سورت کی آیت نمبر8 سے معلوم ہو اکہ قیامت کے دن ہر نعمت کے بارے میں سوال ہو گا چاہے وہ نعمت جسمانی ہو یا روحانی، ضرورت کی ہو ، یا عیش و راحت کی حتّٰی کہ ٹھنڈے پانی، درخت کے سائے اور راحت کی نیند کے بارے میں بھی سوال ہو گا۔ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’ وَ لَا تَقْفُ مَا لَیْسَ لَكَ بِهٖ عِلْمٌؕ-اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا ‘‘(بنی اسرائیل:۳۶)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس بات کے پیچھے نہ پڑ جس کا تجھے علم نہیں بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سب کے بارے میں سوال کیا جائے گا۔