پاتے۔اس کے بعد ارشاد فرمایا’’پھر وہ اپنے دوسرے بھائی سے کہے:تم بھی میری حالت دیکھ رہے ہو،تم میرے لئے کیا کر سکتے ہو؟تو وہ جواب میں کہے: میں اس وقت تک تمہارا ساتھ دوں گا جب تک تم زندہ ہو،جونہی تم دنیا سے رخصت ہو گئے تو ہمارے راستے جدا جدا ہو جائیں گے کیونکہ تم قبر میں پہنچ جاؤ گے اور میں یہیں دنیا میں رہ جاؤں گا۔یہ بھائی اصل میں اس شخص کا مال ہے،اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے۔صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی: یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، ہم اسے بھی اچھا نہیں سمجھتے۔ حضور ِاَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے مزید ارشاد فرمایا’’ پھر وہ شخص اپنے تیسرے بھائی سے کہے:یقینا تم بھی میری حالت دیکھ رہے ہو اور تم نے میرے اہل و عیال اور مال کا جواب بھی سن لیا ہے،بتاؤ تم میرے لئے کیا کر سکتے ہو؟وہ اُسے تسلی دیتے ہوئے کہے: میرے بھائی ،میں تو قبر میں بھی تمہارے ساتھ رہوں گا اور تمہیں وحشت سے بچاؤں گا اور جب حساب کا دن آئے گا تو میں تیرے میزان میں جا بیٹھوں گا اور اسے وزن دار کر دوں گا۔یہ ا س کا عمل ہے،اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی: یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، یہ تو بہت اچھا دوست ہے۔ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ حقیقت یہی ہے۔(کنز العمّال،حرف المیم،کتاب الموت،قسم الافعال،ذیل الموت،۸/۳۱۸،الجزء الخامس عشر، الحدیث:۴۲۹۷۴)
كَلَّاسَوْفَ تَعْلَمُوْنَۙ(۳) ثُمَّ كَلَّا سَوْفَ تَعْلَمُوْنَؕ(۴) كَلَّا لَوْ تَعْلَمُوْنَ عِلْمَ الْیَقِیْنِؕ(۵) لَتَرَوُنَّ الْجَحِیْمَۙ(۶) ثُمَّ لَتَرَوُنَّهَا عَیْنَ الْیَقِیْۙنِ(۷)ثُمَّ لَتُسْــٴَـلُنَّ یَوْمَىٕذٍ عَنِ النَّعِیْمِ۠(۸)
ترجمۂکنزالایمان: ہاں ہاں جلد جان جاؤ گے۔پھر ہاں ہاں جلد جان جاؤ گے ۔ہاں ہاں اگر یقین کا جاننا جانتے تو مال کی محبت نہ رکھتے ۔ بیشک ضرور جہنم کو دیکھو گے ۔پھر بیشک ضرور اسے یقینی دیکھنا دیکھو گے ۔پھر بیشک ضرور اس دن تم سے نعمتوں سے پرسش ہوگی۔