مال اور اولاد کی حقیقت:
یاد رہے جس مال کے زیادہ ہونے کی حرص کی جاتی ہے اور جس اولاد پر فخر و غرور کااظہار کیا جاتا ہے ان کی حقیقت یہ ہے کہ یہ اس وقت تک انسان کے ساتھ رہتے ہیں جب تک ا س کے جسم میں روح باقی ہے اور جیسے ہی روح اس کے تن سے جدا ہوتی ہے اور اسے قبر میں دفن کر دیا جاتا ہے تو وہ مال اور اولاد اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں اور قبر میں اس کے ساتھ صرف اس کا عمل جاتا ہے لہٰذا ہر عقلمند انسان کو چاہئے کہ وہ مال زیادہ ہونے کی حرص کرنے اور اپنی اولاد پر فخر و غرور کرنے کی بجائے نیک اعمال زیادہ کرنے کی کوشش کرے تاکہ یہ قبر میں اس کے بہترین ساتھی ہوں ۔
حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’میت کے ساتھ تین چیزیں جاتی ہیں ،ان میں سے دو لوٹ آتی ہیں اور ایک(اس کے ساتھ) رہ جاتی ہے۔اس کے اہلِ خانہ،مال اور عمل ساتھ جاتے ہیں ،اہلِ خانہ اور مال لوٹ آتے ہیں اور عمل اس کے ساتھ باقی رہتا ہے۔( بخاری، کتاب الرّقاق، باب سکرات الموت، ۴/۲۵۰، الحدیث: ۶۵۱۴)
حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں ،ایک دن رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے دریافت فرمایا’’تم جانتے ہو کہ تمہاری،تمہارے اہل و عیال،مال اور اَعمال کی مثال کیسی ہے؟صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ نے عرض کی :اللّٰہ تعالیٰ اور اس کا رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ بہتر جانتے ہیں ۔ارشاد فرمایا’’تمہاری،تمہارے اہل و عیال،مال اور اعمال کی مثال ا س شخص کی طرح ہے جس کے تین بھائی ہوں ، جب اس کی موت کاوقت قریب آئے تو وہ اپنے تینوں بھائیوں کو بلائے اور ایک سے کہے:تم میری حالت دیکھ رہے ہو،یہ بتاؤ کہ تم میرے لئے کیا کر سکتے ہو؟وہ جواب دے:میں تمہارے لئے اتنا کر سکتا ہوں کہ فی الحال تمہاری تیمار داری کروں ،تمہارے ساتھ رہ کر تمہاری حاجات اور ضروریات کو پورا کروں ،پھر جب تمہارا انتقال ہو جائے تو تمہیں غسل دے کر کفن پہناؤں اور لوگوں کے ساتھ مل کر تمہارا جنازہ اٹھاؤں کہ کبھی میں کندھا دوں اور کبھی اور شخص، جب (تمہیں دفن کر کے) واپس آؤں تو جو کوئی تمہارے بارے میں پوچھے اس کے سامنے تمہاری بھلائی ہی بیان کروں ۔ یہ بھائی در حقیقت اس شخص کے اہل و عیال ہیں ۔یہ فرمانے کے بعد حضور پُرنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے صحابۂ کرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے پوچھا:اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟انہوں نے عرض کی:ہم اس میں کوئی بھلائی نہیں