Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
811 - 881
’’بندہ کہتا ہے کہ میرا مال،میرا مال، ا س کے لئے تو اس کے مال سے صرف تین چیزیں  ہیں (1)جو ا س نے کھا کر فنا کر دیا۔(2)جو ا س نے پہن کر بوسیدہ کر دیا۔(3)جو کسی کو دے کر(آخرت کے لئے) ذخیرہ کر لیا۔اس کے ما سوا جو کچھ بھی ہے وہ جانے والا ہے اور وہ اس کو لوگوں  کے لئے چھوڑنے والا ہے۔( مسلم، کتاب الزّہد و الرّقائق، ص۱۵۸۲، الحدیث: ۴-(۲۹۵۹))
	حضرت عمرو بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ خدا کی قسم !مجھے تمہارے غریب ہو جانے کا ڈر نہیں  ہے،مجھے تو اس بات کا ڈر ہے کہ دنیا تم پر کشادہ نہ ہو جائے جس طرح تم سے پہلے لوگوں  پر ہوئی تھی،پھر تم اس میں  رغبت کر جاؤ جیسے وہ لوگ رغبت کر گئے اور یہ تمہیں  ہلاک کر دے جیسے انہیں  ہلاک کر دیا۔( بخاری، کتاب الجزیۃ و الموادعۃ، باب الجزیۃ و الموادعۃ مع اہل الذّمۃ و الحرب، ۲/۳۶۳، الحدیث: ۳۱۵۸)
	حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’مال و اَسباب کی کثرت سے مالداری نہیں  ہوتی بلکہ (اصل) مالداری تو دل کا غنی ہونا ہے،خدا کی قسم!مجھے تمہارے بارے میں  محتاجی کا خوف نہیں  ہے لیکن مجھے تمہارے بارے ا س بات کا خوف ہے کہ تم کثرت ِمال کی ہوس میں  مبتلا ہو جاؤ گے۔( مسند امام احمد، مسند ابی ہریرۃ رضی اللّٰہ عنہ، ۳/۶۴۵، الحدیث: ۱۰۹۵۸)
	 حضرت کعب بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے، حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ دو بھوکے بھیڑیئے جو بکریوں  میں  چھوڑ دیئے جائیں  وہ ان بکریوں  کو اس سے زیادہ خراب نہیں  کرتے جتنا مال اور عزت کی حرص انسان کے دین کو خراب کر دیتی ہے۔( ترمذی، کتاب الزّہد، ۴۳-باب، ۴/۱۶۶، الحدیث: ۲۳۸۳)
	اللّٰہ تعالیٰ سب مسلمانوں  کو مال کی حرص اور ہوس سے محفوظ فرمائے، آمین۔
{حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَ: یہاں  تک کہ تم نے قبروں  کا منہ دیکھا۔ } یعنی کثرتِ مال کی حرص تمہارے دل میں  رہی یہاں  تک کہ تمہیں  موت آ گئی اور تم قبروں  میں  دفن ہو گئے۔ (خازن، التّکاثر، تحت الآیۃ: ۲، ۴/۴۰۴)