Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
81 - 881
تو ضرور ہم تمہارے ساتھ نکلیں  گے اور ہرگز تمہارے بارے میں  کسی کا کہنا نہ مانیں  گے اور اگر تم سے لڑائی کی گئی تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں  گے اور اللّٰہ گواہی دیتا ہے کہ یقینا وہ ضرورجھوٹے ہیں ۔
{اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا: کیا تم نے منافقوں  کو نہ دیکھا۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ،کیا آپ نے عبد اللّٰہ بن اُبی سلول منافق اور اس کے ساتھیوں  کو نہ دیکھاکہ اپنے اہل ِکتاب کافر بھائیوں  بنو قریظہ اور بنو نضیر سے کہتے ہیں  کہ اگر تم مدینہ منورہ سے نکالے گئے تو ضرور ہم تمہارے ساتھ جائیں  گے اور ہرگز تمہارے  خلاف کسی کا کہا نہ مانیں  گے نہ مسلمانوں  کا نہ رسولِ اکرم کا ،اور اگر تم سے لڑائی ہوئی تو ہم ضرور تمہاری مدد کریں  گے اور تمہارے ساتھ مل کر لڑیں  گے ۔ اللّٰہ تعالیٰ گواہ ہے کہ یہودیوں  سے منافقین کے یہ سب وعدے جھوٹے ہیں ۔( روح البیان،الحشر،تحت الآیۃ: ۱۱، ۹/۴۳۸، خازن، الحشر، تحت الآیۃ: ۱۱، ۴/۲۵۰، مدارک، الحشر، تحت الآیۃ: ۱۱، ص۱۲۲۶، ملتقطاً)
آیت ’’ اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِیْنَ نَافَقُوْا‘‘سے حاصل ہونے والی معلومات:
	اس آیت سے چار باتیں  معلوم ہوئیں ،
(1)… منافق کفار کے بھائی ہیں  مومنوں  کے بھائی نہیں ، اگرچہ وہ بظاہر کلمہ پڑھتے ہیں  لیکن وقت پر کفار ہی کا ساتھ دیتے ہیں ۔
(2)… کفار کو بھائی سمجھنا اور بھائی کہنا منافقوں  کا کام ہے۔
(3)… منافق در حقیقت کسی کا ساتھی نہیں  اور نہ ہی اس کے وعدوں  کا کوئی اعتبار ہے، نہ کفار کو اس پر اعتبار آتا ہے اور نہ مسلمانوں  کو ۔
(4)…اللّٰہ تعالیٰ اپنے حبیب  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ان کے خفیہ رازوں  پر اطلاع دیتا ہے کیونکہ منافقوں کی یہ گفتگو نہایت راز داری کے ساتھ تنہائی میں  ہوئی تھی۔
لَىٕنْ اُخْرِجُوْا لَا یَخْرُجُوْنَ مَعَهُمْۚ-وَ لَىٕنْ قُوْتِلُوْا لَا یَنْصُرُوْنَهُمْۚ-وَ لَىٕنْ نَّصَرُوْهُمْ لَیُوَلُّنَّ الْاَدْبَارَ۫-ثُمَّ لَا یُنْصَرُوْنَ(۱۲)