عَلَیْہِ فرماتے ہیں : اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ ،آپ قیامت کی ہَولْناکی، شدت اور دہشت کو ہماری طرف سے آنے والی وحی کے ذریعے ہی جان سکتے ہیں ۔تو یہاں وحی کے بغیر قیامت کی ہَولْناکی کے علم کی نفی ہے(نہ کہ مُطلَق علم کی نفی ہے)۔( صاوی، القارعۃ، تحت الآیۃ: ۳، ۶/۲۴۱۳)
یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِۙ(۴)
ترجمۂکنزالایمان: جس دن آدمی ہوں گے جیسے پھیلے پتنگے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: جس دن آدمی پھیلے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے ۔
{یَوْمَ یَكُوْنُ النَّاسُ كَالْفَرَاشِ الْمَبْثُوْثِ: جس دن آدمی پھیلے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے۔} یعنی جس طرح پروانے شعلے پر گرتے وقت مُنتَشِر ہوتے ہیں اور ان کے لئے کوئی ایک جہت مُعَیَّن نہیں ہوتی بلکہ ہر ایک دوسرے کے خلاف جہت سے جاتا ہے یہی حال قیامت کے دن مخلوق کے اِنتشار کا ہو گا کہ جب انہیں قبروں سے اٹھایا جائے گا تو وہ پھیلے ہوئے پروانوں کی طرح مُنتَشِر ہوں گے اور ہر ایک دوسرے کے خلاف جہت کی طرف جا رہا ہو گا۔( خازن، القارعۃ، تحت الآیۃ: ۴، ۴/۴۰۳)
یاد رہے کہ اس آیت میں قبروں سے اٹھتے وقت مخلوق کے اِنتشار کو پھیلے ہوئے پروانوں کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے جبکہ ان آیات: ’’یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ اِلٰى شَیْءٍ نُّكُرٍۙ(۶)خُشَّعًا اَبْصَارُهُمْ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ كَاَنَّهُمْ جَرَادٌ مُّنْتَشِرٌ‘‘( قمر:۶،۷)
ترجمۂکنزُالعِرفان: جس دن پکارنے والا ایک سخت انجان بات کی طرف بلائے گا۔(تو)ان کی آنکھیں نیچے جھکی ہوئی ہوں گی۔ قبروں سے یوں نکلیں گے گویا وہ پھیلی ہوئی ٹڈیاں ہیں ۔
میں مخلوق کی کثرت کی وجہ سے انہیں پھیلی ہوئی ٹڈیوں سے تشبیہ دی گئی ہے ۔