Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
802 - 881
سورۂ عادِیات کے ساتھ مناسبت:
	سورۂ قارِعہ کی اپنے سے ماقبل سورت’’عادِیات‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورۂ عادِیات کے آخر میں  قیامت کے اوصاف بیان کئے گئے اور سورۂ قارِعہ میں  قیامت کی ہَولْناکیاں  بیان کی گئی ہیں ۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
اَلْقَارِعَةُۙ(۱) مَا الْقَارِعَةُۚ(۲) وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُؕ(۳)
ترجمۂکنزالایمان: دل دہلانے والی۔کیا وہ دہلانے والی ۔اور تو نے کیا جانا کیا ہے دہلانے والی۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: وہ دل دہلادینے والی۔وہ دل دہلادینے والی کیاہے؟اور تجھے کیا معلوم کہ وہ دل دہلادینے والی کیاہے؟
{اَلْقَارِعَةُ: وہ دل دہلادینے والی۔} قارعہ قیامت کے ناموں  میں  سے ایک نام ہے اور ا س کا یہ نام اس لئے رکھا گیا کہ اس کی دہشت ،ہَولْناکی اور سختی سے (تمام انسانوں  کے) دل دہل جائیں  گے اور بعض مفسرین فرماتے ہیں  کہ حضرت اسرافیل عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی آواز کی وجہ سے قیامت کو ’’قارِعہ ‘‘ کہتے ہیں  کیونکہ جب وہ صُور میں  پھونک ماریں  گے تو ان کی پھونک کی آواز کی شدت سے تمام مخلوق مر جائے گی۔ (خازن، القارعۃ، تحت الآیۃ:۱، ۴/۴۰۳)
{وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الْقَارِعَةُ: اور تجھے کیا معلوم کہ وہ دل دہلادینے والی کیاہے؟} علامہ احمد صاوی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی