Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
793 - 881
مختلف حالتوں  میں  لوٹیں  گے کہ کسی کا چہرہ سفید ہو گا اور کسی کا چہرہ سیاہ ہو گا،کوئی سوار ہو گا اور کوئی زنجیروں  اور بیڑیوں  میں  جکڑا ہوا پیدل ہو گا،کوئی امن کی حالت میں  ہو گا اور کوئی خوفزدہ ہو گا تاکہ انہیں  ان کے اعمال دکھائے جائیں ۔( خازن، الزّلزلۃ، تحت الآیۃ: ۶، ۴/۴۰۱، روح البیان، الزّلزلۃ، تحت الآیۃ: ۶، ۱۰/۴۹۳، ملتقطاً)
فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ(۷) وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠(۸)
ترجمۂکنزالایمان: توجو ایک ذرّہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا۔اور جو ایک ذرّہ بھر برائی کرے اسے دیکھے گا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: توجو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے وہ اسے دیکھے گا۔اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے وہ اسے دیکھے گا۔
{فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗ: اور جو ایک ذرہ بھر برائی کرے وہ اسے دیکھے گا۔} حضرت عبد اللّٰہ بن عباس  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتے ہیں  کہ ہر مومن اور کافر کو قیامت کے دن اس کے نیک اوربرے اعمال دکھائے جائیں  گے، مومن کو اس کی نیکیاں  اور برائیاں  دکھا کر اللّٰہ تعالیٰ برائیاں  بخش دے گا اور نیکیوں  پر ثواب عطا فرمائے گا اورکافر کی نیکیاں  رد کردی جائیں  گی کیونکہ وہ کفر کی وجہ سے ضائع ہوچکیں  اور برائیوں  پر اس کو عذاب کیا جائے گا۔
	حضرت محمد بن کعب قرظی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرما تے ہیں  کہ کافر نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی تووہ اس کی جزا دنیا ہی میں  دیکھ لے گا یہاں  تک کہ جب دنیا سے نکلے گا تو اس کے پاس کوئی نیکی نہ ہوگی اور مومن اپنی برائیوں  کی سزا دنیا میں  پائے گا تو آخرت میں  اس کے ساتھ کوئی برائی نہ ہوگی۔بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے پہلی آیت مومنین کے بارے میں  ہے اور یہ آیت کفار کے بارے میں  ہے۔( خازن، الزّلزلۃ، تحت الآیۃ: ۸، ۴/۴۰۱،  مدارک، الزّلزلۃ، تحت الآیۃ: ۸، ص۱۳۶۸، ملتقطاً)
نیکی تھوڑی سی بھی کارآمد اور گناہ چھوٹا سا بھی وبال ہے:
	اس آیت سے معلوم ہوا کہ نیکی تھوڑی سی بھی کارآمد ہے اور گناہ چھوٹا سا بھی وبال ہے۔ حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ