اسی طرح ہمارے اَعضاء جن سے ہم گناہ کرتے ہیں ،یہ بھی ہمارے اَعمال پر گواہ ہیں اور قیامت کے دن یہ وہ سب اعمال بیان کر دیں گے جو ان سے کئے گئے ہوں گے، چنانچہ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’ اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا ‘‘(بنی اسرائیل:۳۶)
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک کان اور آنکھ اور دل ان سبکے بارے میں سوال کیا جائے گا۔
اور ارشاد فرمایا:
’’ یَّوْمَ تَشْهَدُ عَلَیْهِمْ اَلْسِنَتُهُمْ وَ اَیْدِیْهِمْ وَ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ‘‘(نور:۲۴)
ترجمۂکنزُالعِرفان: جس دن ان کے خلاف ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ اور ان کے پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے۔
لہٰذا ہر انسان کو چاہئے کہ وہ جب اپنے کان،آنکھ،دل،زبان،ہاتھ اور پاؤں سے کوئی گنا ہ کرنے لگے تو وہ یہ بات پیشِ نظر رکھے کہ قیامت کے دن یہی اَعضاء اِس کے اُس گناہ کی گواہی دیں گے۔
یَوْمَىٕذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا ﳔ لِّیُرَوْا اَعْمَالَهُمْؕ(۶)
ترجمۂکنزالایمان: اس دن لوگ اپنے رب کی طرف پھریں گے کئی راہ ہوکر تاکہ اپنا کیادکھائے جائیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اس دن لوگ مختلف حالتوں میں لوٹیں گے تاکہ انہیں ان کے اعمال دکھائے جائیں ۔
{یَوْمَىٕذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا: اس دن لوگ مختلف حالتوں میں لوٹیں گے۔} اس آیت کا ایک معنی یہ ہے کہ قیامت کے دن لوگ حساب کی جگہ پر پیش ہونے کے بعد وہاں سے کئی راہیں ہو کر لوٹیں گے، کوئی دائیں طرف سے ہو کر جنت کی طرف جائے گا اور کوئی بائیں جانب سے ہو کر دوزخ کی طرف جائے گا تاکہ انہیں ان کے اعمال کی جزاء دکھائی جائے۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ جس دن وہ اُمور واقع ہوں گے جن کا ذکر کیا گیا تو ا س دن لوگ اپنی قبروں سے حساب کی جگہ کی طرف