Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
79 - 881
ارشادفرمایا:ابھی اہلِ جنت میں  سے ایک آدمی تمہارے سامنے آئے گا،تو انصارمیں  سے ایک شخص آیا جس کی داڑھی سے وضوکاپانی ٹپک رہاتھااوروہ بائیں  ہاتھ میں  اپناجوتالٹکائے ہواتھا۔پھرجب دوسرادن ہواتو رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا’’ابھی تمہارے سامنے اہل ِجنت میں  سے ایک آدمی آئے گا،چنانچہ وہی آدمی اپنی پہلے دن والی کَیفِیّت کے مطابق آیا۔پھرجب تیسرادن آیاتوحضورِ اقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے پھراسی طرح ارشاد فرمایا اور پھروہی آدمی آیا۔ جب رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  تشریف لے گئے توحضرت عبداللّٰہ بن عمروبن عاص  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا اس آدمی کے پیچھے گئے اورفرمایا:میرااپنے والد سے جھگڑاہوگیاہے اورمیں  نے یہ قسم کھائی ہے کہ میں  تین راتیں ان کے پاس نہیں  جاؤں  گا،لہٰذا اگرآپ مناسب خیال کریں تو میری قسم کا وقت ختم ہونے تک مجھے اپنے پاس رہنے کی اجازت دے دیں ۔اس نے کہا:ٹھیک ہے ۔
	حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  : حضرت عبداللّٰہ بن عمرو رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے بتایا کہ انہوں  نے تین راتیں  ا س کے ساتھ گزاریں ،اس دوران انہوں  نے رات میں  کسی بھی وقت اس آدمی کو اٹھتے نہیں  دیکھا،البتہ  اس کا حال یہ تھاکہ جب وہ اپنے بسترپرکروٹ بدلتاتواللّٰہ تعالیٰ کاذکرکرتااوراس کی عظمت وکِبریائی بیان کرتا،یہاں  تک کہ وہ صبح کی نمازکے لئے اٹھااورخوب اچھی طرح وضوکیا اورمیں  نے اسے کلمہ ٔ      خیرکہنے کے علاوہ کچھ کہتے نہیں  سنا۔ جب تین راتیں  گزر گئیں اورقریب تھاکہ میں  اس کے عمل کوکم گمان کرتا تومیں  نے کہا:اے اللّٰہ کے بندے !بے شک میرے اورمیرے والد کے درمیان کوئی جھگڑااورناراضی نہیں  ہے اورنہ ہی کوئی فراق اورجدائی ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ میں  نے  رسول اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کوتمہارے بارے میں  تین مجالس میں  تین باریہ فرماتے سناہے کہ ابھی تمہارے سامنے اہلِ جنت میں  سے ایک آدمی داخل ہوگااورتینوں  بارتم ہی آئے،چنانچہ میں  نے ارادہ کیاکہ تمہارے پاس ٹھہرکر تمہارے عمل کودیکھوں ۔میں  نے تمہیں  کوئی بڑ اعمل کرتے نہیں  پایا تو وہ کو نسا عمل ہے جس کی وجہ سے تم نے رسولِ کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی زبانِ اقدس سے یہ فضیلت پائی ۔اس نے کہا :میرا عمل وہی ہے جو آ پ نے دیکھا۔یہ بات سن کر میں  واپس جانے کے لئے پلٹاتواس نے مجھے بلایااورکہا:عمل تووہی ہے جوآپ نے دیکھ لیاہے البتہ میں  اپنے دل میں  کبھی مسلمان کے بارے میں  کوئی کینہ نہیں  رکھتااورجو خیروبرکت اللّٰہ تعالیٰ نے اسے عطا فرمائی ہے اس پرکبھی حسد نہیں  کرتا۔یہ سن کرحضرت عبداللّٰہ بن عمرو رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے اس سے فرمایا:یہی وہ