عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی صحبت اختیار کرنے کے لئے منتخب فرمایا اور ان کی عظمت و شان کو قرآنِ مجید میں بیان فرمایا،لیکن افسوس! کچھ لوگ خود کو مسلمان بھی کہتے ہیں اوران کے سینے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے بغض سے بھرے ہوئے ہیں ،انہیں صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے لئے اِستغفار کرنے کاحکم دیا گیا لیکن یہ انہیں گالیاں دیتے ہیں جیساکہ اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے فرمایا : لوگوں کو حکم تو یہ دیا گیا کہ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کیلئے اِستغفار کریں اور کرتے یہ ہیں کہ انہیں گالیاں دیتے ہیں ۔( مسلم، کتاب التفسیر، ص۱۶۱۱، الحدیث: ۱۵(۳۰۲۲))
ایسے لوگوں کے لئے درج ذیل حدیث ِپاک میں بڑی عبرت ہے ،چنانچہ
حضرت عبد اللّٰہ بن مغفل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ میرے صحابہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے متعلق اللّٰہ سے ڈرو اللّٰہ سے ڈرو ،میرے صحابہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے بارے میں اللّٰہ سے ڈرو اللّٰہ سے ڈرو، میرے بعد انہیں نشانہ نہ بناؤ کیونکہ جس نے ان سے محبت کی تو میری محبت کی وجہ سے ان سے محبت کی اور جس نے ان سے بغض رکھا تو میرے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھا اور جس نے انہیں ستایا اس نے مجھے ستایا اور جس نے مجھے ستایا اس نے اللّٰہ کو ایذا دی اور جس نے اللّٰہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ اللّٰہ اسے پکڑے۔( ترمذی ، ابواب المناقب ، باب فیمن سبّ اصحاب النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم ، ۵/۳۰۲ ، الحدیث : ۳۸۶۴ ، دار ابن کثیر، بیروت)
اللّٰہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو ہدایت اور عقلِ سلیم عطا فرمائے اور ان کے دلوں کو صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی عظمت و شان سے معمور فرمائے،اٰمین ۔
مسلمانوں سے بغض نہ رکھنے کے سبب جنت کی بشارت ملی:
آیت ِپاک میں مذکور دعا سے یہ بھی معلوم ہواکہ ہمیں اپنے دل میں کسی بھی مسلمان کے بارے میں بغض اور کینہ نہیں رکھناچاہیے ، یہاں اسی سے متعلق ایک حدیث ِپاک ملاحظہ ہو ، چنانچہ حضرت انس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ایک بارہم سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں حاضرتھے توآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے