(1)…کفار اس بات کے پابند ہیں کہ وہ اسلام قبول کر کے اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کریں ۔
(2)…دین میں عقائد اور اعمال دونوں ہی ضروری ہیں ۔
(3)…وہی عمل مقبول ہے جس میں خالص اللّٰہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی نیت کی گئی ہو۔
حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’بے شک اللّٰہ تعالیٰ تمہاری شکلوں اور تمہارے مالوں کی طرف نہیں دیکھتا بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا کرتا ہے۔( مسلم، کتاب البر و الصلۃ و الآداب، باب تحریم ظلم المسلم وخذلہ... الخ، ص۱۳۸۷، الحدیث: ۳۴(۲۵۶۴))
اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ وَ الْمُشْرِكِیْنَ فِیْ نَارِ جَهَنَّمَ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-اُولٰٓىٕكَ هُمْ شَرُّ الْبَرِیَّةِؕ(۶)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک جتنے کافر ہیں کتابی اور مشرک سب جہنم کی آگ میں ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے وہی تمام مخلوق میں بدتر ہیں۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک اہلِ کتاب میں سے جو کافر ہوئے وہ اور مشرک سب جہنم کی آگ میں ہیں ہمیشہ اس میں رہیں گے، وہی تمام مخلوق میں سب سے بدتر ہیں ۔
{اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ: بیشک اہلِ کتاب میں سے جو کافر ہوئے۔} اس سے پہلے کافروں کا دُنْیَوی حال بیان کیا گیا اور اب یہاں سے کافروں کا اُخروی حال بیان کیا جا رہا ہے اور اہلِ کتاب کے ساتھ مشرکوں کا ذکر اس لئے کیا گیا تاکہ انہیں یہ وہم نہ ہو کہ آیت میں بیان کیا گیا حکم صرف اہلِ کتاب کے ساتھ خاص ہے۔( روح البیان، البینۃ، تحت الآیۃ: ۶، ۱۰/۴۸۹)
آیت’’ اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
اس آیت سے 4 باتیں معلوم ہوئیں :