(1)…اہلِ کتاب میں سے وہ لوگ جو اللّٰہ تعالیٰ کو مانتے اور ا س کی عبادت تو کرتے تھے لیکن انہوں نے اللّٰہ تعالیٰ کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی نبوت کو نہ مانا اور ان کی عزت و تَوقیر نہ کی تو اللّٰہ تعالیٰ نے انہیں کافر قرار دیا بلکہ یہاں تومشرکین سے پہلے اُن کے عذاب کا ذکر کیا۔
(2)…کافر چاہے کتابی ہو یا مشرک جہنم میں ہمیشہ رہے گا اگرچہ ان کے کفر کی وجہ سے ان کے عذاب کی نَوعِیَّت جدا ہو۔
(3)… کفر جہنم میں داخل ہونے کا یقینی سبب ہے ۔
(4)… کافر اگرچہ کتنی ہی بڑی کوئی خدمت انجام دے رہا ہو وہ بد تر ہی ہے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِۙ-اُولٰٓىٕكَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِؕ(۷)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے وہی تمام مخلوق میں بہتر ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک جو ایمان لائے اورانہوں نے اچھے کام کئے وہی تمام مخلوق میں سب سے بہتر ہیں ۔
{اُولٰٓىٕكَ هُمْ خَیْرُ الْبَرِیَّةِ: وہی تمام مخلوق میں سب سے بہتر ہیں ۔} اس آیت سے معلوم ہوا کہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے تو وہ فرشتوں سے بھی افضل ہیں کیونکہ تمام مخلوق میں فرشتے بھی داخل ہیں البتہ ا س میں تفصیل یہ ہے کہ انسانوں میں سے جو حضرات نبوت و رسالت کے منصب پر فائز ہوئے وہ تمام فرشتوں سے افضل ہیں جبکہ فرشتوں میں جو رسول ہیں وہ اولیاء اور علماء سے افضل ہیں (اور اولیاء و علماء عام فرشتوں سے افضل ہیں ) جبکہ عام فرشتے گناہگار مومنین سے افضل ہیں کیونکہ فرشتے گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں ۔( روح البیان، البینۃ، تحت الآیۃ: ۷، ۱۰/۴۹۰، شرح فقہ اکبر، ص۱۱۸، ملتقطاً)
جَزَآؤُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-رَضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُؕ-ذٰلِكَ لِمَنْ