Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
783 - 881
{وَمَا تَفَرَّقَ الَّذِیْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ: اور پھوٹ نہ پڑی کتاب والوں  میں ۔} اس آیت سے مراد یہ ہے کہ پہلے سے تو سب اس بات پر متفق تھے کہ جب وہ نبی تشریف لائیں  گے جن کی بشارت دی گئی ہے تو ہم ان پر ایمان لائیں  گے لیکن جب وہ نبی مکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ جلوہ افروز ہوئے تو ان میں  پھوٹ پڑ گئی اور ان میں  سے بعض آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ پر ایمان لائے اور بعض نے حسد اور عناد کی وجہ سے کفر اختیار کیا۔( خازن، البیّنۃ، تحت الآیۃ: ۴، ۴/۳۹۹، مدارک، البیّنۃ، تحت الآیۃ: ۴، ص۱۳۶۶، ملتقطاً) 
وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ ﳔ حُنَفَآءَ وَ یُقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ یُؤْتُوا الزَّكٰوةَ وَ ذٰلِكَ دِیْنُ الْقَیِّمَةِؕ(۵)
ترجمۂکنزالایمان: اور ان لوگوں  کو تو یہی حکم ہوا کہ اللّٰہ کی بندگی کریں  نرے اسی پر عقیدہ لاتے ایک طرف کے ہوکر اور نماز قائم کریں  اور زکوٰۃ دیں  اور یہ سیدھا دین ہے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور ان لوگوں  کو تو یہی حکم ہوا کہ اللّٰہ کی عبادت کریں ، اس کے لئے دین کو خالص کرتے ہوئے ، ہر باطل سے جدا ہوکر اور نماز قائم کریں  اور زکوٰۃ دیں  اور یہ سیدھا دین ہے۔
{وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ: اور ان لوگوں  کو تو یہی حکم ہوا کہ اللّٰہ کی عبادت کریں ۔} یہاں  سے یہ بیان کیا جا رہا کہ یہودیوں  اور عیسائیوں  کو تورات و انجیل میں  کیا حکم دیا گیا تھا،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ ان لوگوں  کو تورات اور انجیل میں  تو یہی حکم ہوا کہ تمام دینوں  کو چھوڑ کر خالص اسلام کے پیروکار ہو کر اخلاص کے ساتھ اور شرک و نفاق سے دور رہ کر صرف اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کریں اور فرض نماز کو ا س کے اَوقات میں  قائم کریں  اور ان کے مالوں  میں  جو زکوٰۃ فرض ہو اسے دیں  یہ سیدھا دین ہے۔( خازن، البیّنۃ، تحت الآیۃ: ۵، ۴/۳۹۹، مدارک، البیّنۃ، تحت الآیۃ: ۵، ص۱۳۶۶، ملتقطاً) 
آیت’’وَ مَاۤ اُمِرُوْۤا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللّٰهَ ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
	اس آیت سے تین باتیں  معلوم ہوئیں :