Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
77 - 881
 ہی نہایت مہربان رحم والا ہے۔ 
ترجمۂکنزُالعِرفان: اوران کے بعد آنے والے عرض کرتے ہیں : اے ہمارے رب! ہمیں  اورہمارے ان بھائیوں  کوبخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دل میں  ایمان والوں  کیلئے کوئی کینہ نہ رکھ، اے ہمارے رب! بیشک تو نہایت مہربان، بہت رحمت والا ہے۔
{وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ: اوران کے بعد آنے والے۔} یعنی مہاجرین اور انصار کے بعد آنے والے عرض کرتے ہیں : اے ہمارے رب! ہمیں  اورہمارے ان بھائیوں  کوبخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دل میں  ایمان والوں  کیلئے کوئی کینہ نہ رکھ، اے ہمارے رب! بیشک تو نہایت مہربان، رحمت والا ہے اور تو اپنی مہربانی اور رحم کے صدقے ہماری ا س دعا کو قبول فرما۔( روح البیان، الحشر، تحت الآیۃ: ۱۰، ۹/۴۳۶-۴۳۷)
	یاد رہے کہ مہاجرین و انصار کے بعد آنے والوں  میں  قیامت تک پیدا ہونے والے تمام مسلمان داخل ہیں  اور  ان سے پہلے ایمان لانے والوں  میں  تمام صحابۂ کرام  رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ  داخل ہیں  ۔
صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے بغض رکھنے والے ایمان والوں  کی اَقسام سے خارج ہیں:
	اس سے معلوم ہو اکہ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے بارے دل میں  کینہ نہ رکھناایمان کی علامت اور ان کے بارے میں  بغض سے بچنے کی دعا کرنا مسلمانوں  کا طریقہ ہے ۔ صدرُ الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی  عَلَیْہِ  فرماتے ہیں  ـ:جس کے دِل میں  کسی صحابی کی طرف سے بغض یا کدورت ہو اور وہ اُن کے لیے دعائے رحمت و اِستغفار  نہ کرے، وہ مؤمنین کی اَقسام سے خارج ہے کیونکہ یہاں  مومنین کی تین قسمیں  فرمائی گئیں ۔ مہاجرین، انصاراور ان کے بعد والے جواُن کے تابع ہوں  اور ان کی طرف سے دل میں  کوئی کدورت نہ رکھیں  اور ان کے لئے دعائے مغفرت کریں  تو جو صحابہ سے کدورت رکھے رافضی ہو یا خارجی وہ مسلمانوں  کی ان تینوں  قسموں  سے خارج ہے۔( خزائن العرفان، الحشر، تحت الآیۃ: ۱۰، ص۱۰۱۱)
صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے بغض رکھنے کا نتیجہ:
	صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ وہ مبارک ہستیاں  ہیں  جنہیں  اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے پیارے حبیب  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی