سورہِ علق کی آیت نمبر13تا 16سے حاصل ہونے والی معلومات:
ان آیات سے دوباتیں معلوم ہوئیں :
(1) …اللّٰہ تعالیٰ اپنے محبوب بندوں کا بدلہ خود لیتا ہے۔
(2)…اللّٰہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کے کام اپنی طرف منسوب فرماتا ہے جیسے پیشانی کے بالوں سے گھسیٹنا فرشتوں کا کام ہے جبکہ اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم گھسیٹیں گے۔
فَلْیَدْعُ نَادِیَهٗۙ(۱۷) سَنَدْعُ الزَّبَانِیَةَۙ(۱۸)
ترجمۂکنزالایمان: اب پکارے اپنی مجلس کو ۔ ابھی ہم سپاہیوں کو بلاتے ہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو اسے چاہیے کہ اپنی مجلس کوپکارے۔ہم (بھی)جلدہی دوزخ کے فرشتوں کو بلائیں گے۔
{فَلْیَدْعُ نَادِیَهٗ: تو اسے چاہیے کہ اپنی مجلس کوپکارے۔} شانِ نزول :جب ابوجہل نے نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو نماز سے منع کیا تو حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے اس کو سختی سے جھڑک دیا، اِس پر اُس نے کہا کہ آپ مجھے جھڑکتے ہیں،خدا کی قسم! میں آپ کے مقابلے میں نوجوان ، سواروں اور پیدلوں سے اس جنگل کو بھردوں گا، آپ جانتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں مجھ سے زیادہ بڑے جتھے اور مجلس والا کوئی نہیں ہے۔اس پر یہ آیات نازل ہوئیں ، جن کا مفہوم یہ ہے کہ ابو جہل اپنی مجلس والوں کو پکار لینے کی دھمکی لگا رہا ہے تو اسے چاہیے کہ میرے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے مقابلے میں اپنی مدد کیلئے اپنی مجلس کوپکارے ،اگر ا س نے ایسا کیا توہم بھی جلدہی دوزخ کے فرشتوں کو بلائیں گے جن کا مقابلہ کرنے کی طاقت ان میں سے کسی کے پاس نہیں ہے۔( خازن، العلق، تحت الآیۃ: ۱۷-۱۸، ۴/۳۹۴، تفسیر کبیر، العلق، تحت الآیۃ: ۱۷-۱۸، ۱۱/۲۲۶، ملتقطاً)
حضرت عبد اللّٰہ بن عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے،نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’ اگر ابو جہل اپنی مجلس کو بلا تا تو فرشتے اسے اعلانیہ طور پر گرفتار کرلیتے‘‘۔ (ترمذی، کتاب التفسیر، باب ومن سورۃ اقرأ باسم ربک، ۵/۲۳۰، الحدیث: ۳۳۵۹)