(1)… گزشتہ لوگوں کی سر کشی میں غور کرنے سے بھی ہدایت نصیب ہوتی ہے۔
(2)… نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے زمانہ والوں کو ایمان کے ذریعہ جو درجے نصیب ہو سکتے تھے وہ بعد والوں کے لئے ممکن نہیں ۔
(3)… بڑابد نصیب وہ ہے جسے اللّٰہ تعالیٰ اچھا موقعہ دے اور وہ اس سے فائدہ نہ اٹھائے۔
اَرَءَیْتَ اِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰىؕ(۱۳) اَلَمْ یَعْلَمْ بِاَنَّ اللّٰهَ یَرٰىؕ(۱۴) كَلَّا لَىٕنْ لَّمْ یَنْتَهِ ﳔ لَنَسْفَعًۢا بِالنَّاصِیَةِۙ(۱۵) نَاصِیَةٍ كَاذِبَةٍ خَاطِئَةٍۚ(۱۶)
ترجمۂکنزالایمان: بھلا دیکھو تو اگر جھٹلایا اور منہ پھیرا ۔ تو کیا حال ہوگا کیا نہ جانا کہ اللّٰہ دیکھ رہا ہے ۔ہاں ہاں اگر باز نہ آیا تو ہم ضرورپیشانی کے بال پکڑ کر کھینچیں گے ۔کیسی پیشانی جھوٹی خطاکار ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بھلا دیکھو تو اگر اس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا (توکیاحال ہوگا)۔ کیا اسے معلوم نہیں کہ اللّٰہ دیکھ رہا ہے۔ہاں ہاں یقینا اگر وہ باز نہ آیا تو ضرور ہم پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچیں گے۔وہ پیشانی جو جھوٹی خطاکار ہے۔
{اَرَءَیْتَ اِنْ كَذَّبَ وَ تَوَلّٰى: بھلا دیکھو تو اگر اس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا ۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی 3آیات کاخلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ ،ذرادیکھو تو ،اگر اس کافر نے( مرتے دم تک)آپ کوجھٹلایا اورآپ پر ایمان لانے سے منہ پھیراتواس کا کیا حال ہوگا؟ کیا ابوجہل کو معلوم نہیں کہ اللّٰہ تعالیٰ اس کے اس فعل کودیکھ رہا ہے تو وہ اسے اس کی جزا دے گا، ہاں ہاں اگر وہ میرے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو ایذا دینے اور انہیں جھٹلانے سے باز نہ آیا تو ضرور ہم اسے پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچیں گے اور اس کو جہنم میں ڈالیں گے اوروہ جھوٹے اور خطار کار شخص کی پیشانی ہے۔( خازن، العلق، تحت الآیۃ: ۱۳-۱۶، ۴/۳۹۴، ملخصاً)