سورہِ علق کی آیت نمبر17اور18سے حاصل ہونے والی معلوماتـ:
ان آیات سے 3 باتیں معلوم ہوئیں ،
(1)… حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ اللّٰہ تعالیٰ کے ایسے محبوب ہیں کہ آپ کا دشمن اللّٰہ تعالیٰ کا دشمن ہے کہ ابو جہل نے حضور پُرنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو دھمکی لگائی کہ وہ اپنی مجلس کے لوگوں کو بلا لے گاتو حضورِ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے یہ نہ فرمایا کہ ہم صحابہ کی جماعت کو بلا لیں گے بلکہ اللّٰہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ہم زَبانیہ فرشتوں کو بلا لیں گے۔
(2)…نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی شان ظاہر کرنے کے لئے فرشتوں کی فوج آنے کو تیار ہے ورنہ کفار کی ہلاکت کے لئے تو ایک ہی فرشتہ کافی ہے۔
(3)…امر کا ہر صیغہ وجوب کے لئے نہیں ہوتا بلکہ اور چیزوں کے لئے بھی ہوتا ہے جیسے یہاں امر کا صیغہ تو ہے لیکن وجوب کے لئے نہیں بلکہ اظہارِ غضب کے لئے ہے۔
كَلَّاؕ-لَا تُطِعْهُ وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ۠۩(۱۹)
ترجمۂکنزالایمان: ہاں ہاں اس کی نہ سنو اور سجدہ کرو اور ہم سے قریب ہوجاؤ ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: خبردار! تم اس کی بات نہ مانو اور سجدہ کرو اور (ہم سے) قریب ہوجاؤ۔
{كَلَّاؕ-لَا تُطِعْهُ وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ: خبردار! تم اس کی بات نہ مانو اور سجدہ کرو اور قریب ہوجاؤ۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ ،آپ نماز کے معاملے میں اس کافر کی بات نہ مانیں اور نماز پڑھتے رہیں اور اللّٰہ تعالیٰ سے قریب ہو جائیں ۔ (خازن، العلق، تحت الآیۃ: ۱۹، ۴/۳۹۴)
آیت ’’ وَ اسْجُدْ وَ اقْتَرِبْ ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
ا س آیت سے 3 باتیں معلوم ہوئیں :