مروی ہے کہ حضرت عبدالرحمن بن عوف رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بیتُ اللّٰہ شریف کاطواف کررہے اور یہ دعامانگ رہے تھے:اے اللّٰہ!عَزَّوَجَلَّ ،مجھے میرے نفس کی حرص سے بچا۔اس سے زائد وہ کچھ نہیں کہتے تھے ،جب ان سے اس کے بارے میں اِستفسارکیاگیاتوانہوں نے فرمایا:جب مجھے میرے نفس کی حرص سے محفوظ رکھاگیاتونہ میں چوری کروں گا،نہ زناکروں گااورنہ ہی میں نے اس قسم کاکوئی کام کیاہے ۔( تفسیر طبری، الحشر، تحت الآیۃ: ۹، ۱۲/۴۲)
اللّٰہ تعالیٰ ہم پر اپنا رحم فرمائے اور ہمیں نفس کے حرص اور لالچ سے محفوظ فرمائے،اٰمین۔
آیت ’’وَ الَّذِیْنَ تَبَوَّؤُ الدَّارَ وَ الْاِیْمَانَ مِنْ قَبْلِهِمْ‘‘سے حاصل ہونے والی معلومات:
اس آیت سے تین باتیں معلوم ہوئیں ،
(1)…صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی عظمت و شان اور ان کے اوصاف بیان کرنااللّٰہ تعالیٰ کی سنت ہے۔
(2)…انصار صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کی تعریف میں اللّٰہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ وہ مہاجر صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے محبت کرتے ہیں ،اس سے معلوم ہوا کہ تمام مہاجرصحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے محبت کرنا کمالِ ایمان کی نشانی ہے۔
(3)…سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی برکت نے انصار صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کے دل ایسے پاک کردیئے کہ وہ مہاجر صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ سے حسد نہیں کرتے اور ان کے ساتھ محبت و اِیثار کا سلوک کرتے ہیں ۔
وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠(۱۰)
ترجمۂکنزالایمان: اور وہ جو اُن کے بعد آئے عرض کرتے ہیں اے ہمارے رب ہمیں بخش دے اور ہمارے بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لائے اور ہمارے دل میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ رکھ اے رب ہمارے بے شک تو