یاد رہے کہ اس میں وہ صورتیں داخل نہیں جن میں کسی کو نماز پڑھنے یا عبادت کرنے سے روکنا جائز ہے جیسے غصب کی ہوئی زمین میں نماز پڑھنے والے کو روکنا،مکروہ اوقات میں نماز پڑھنے والے کو روکنا،شوہر کا اپنی بیوی کو نفل نماز پڑھنے، نفلی روزہ اور نفلی اعتکاف کرنے سے روکنا وغیرہ۔یونہی مالک غلام کو، اور اجیرِ خاص کو نوافل سے روک سکتا ہے۔ مگر فقہا ء فرماتے ہیں کہ جو کراہت کے وقت نماز پڑھنے لگے، تو اسے نماز سے نہ روکو، بعد میں مسئلہ سمجھا دو، تا کہ اس آیت کی زد میں نہ آجاؤ۔ مزید یہ کہ اور بھی کچھ لوگوں کو مسجد سے روکا جا سکتا ہے جیسے نا سمجھ بچہ، یا دیوانہ کو جسے پیشاب پاخانہ کی تمیز نہ ہو، جس کے منہ سے کچے پیاز یا لہسن یا حُقہ کی بو آرہی ہو، جس کے جسم پر بدبودار زخم ہو، وہ بد مذہب جس کے مسجد میں آنے سے فساد ہو۔
اَرَءَیْتَ اِنْ كَانَ عَلَى الْهُدٰۤىۙ(۱۱) اَوْ اَمَرَ بِالتَّقْوٰىؕ(۱۲)
ترجمۂکنزالایمان: بھلا دیکھو تو اگر وہ ہدایت پر ہوتا۔یا پرہیزگاری بتاتا تو کیا خوب تھا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بھلا دیکھو تو اگر وہ ہدایت پر ہوتا ۔یا پرہیزگاری کا حکم دیتا (تو کیا ہی اچھا تھا)۔
{اَرَءَیْتَ اِنْ كَانَ عَلَى الْهُدٰۤى: بھلا دیکھو تو اگر وہ ہدایت پر ہوتا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کاخلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ ،ذرادیکھو تو اگر نماز سے روکنے والا وہ کافر ہدایت پر ہوتا اور دوسروں کوپرہیزگاری کا حکم دیتا تووہ کتنے بلند مَراتب حاصل کرتا۔ (تفسیر کبیر، العلق، تحت الآیۃ: ۱۱-۱۲، ۱۱/۲۲۲)اگر ابو جہل ایمان قبول کر لیتا تو اسے یہ مراتب ملتے کہ وہ مومن ہوتا، پھر حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے دیدارسے صحابی بن جاتا، حضور پُرنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کا عزیز ہو کر اللّٰہ تعالیٰ کا پیارا بن جاتا،بیتُ اللّٰہ شریف میں رہتا تھا اس لئے ایک نیکی کا ثواب ایک لاکھ پاتا، وہ قوم کا سردار تھا اوراس کی وجہ سے اس کے ماتحت لوگ بھی ایمان لے آتے تو ان سب کا ثواب بھی اسے ملتا ۔
سورہِ علق کی آیت نمبر11اور 12سے حاصل ہونے والی معلوماتـ:
ان آیات سے 3 باتیں معلوم ہوئیں