Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
767 - 881
 میں  اُنہیں  ایسا کرتا دیکھوں  گا تو ( مَعَاذَ اللّٰہ) گردن پاؤں  سے کچل ڈالوں  گا اور چہرہ خاک میں  ملادوں  گا۔ایک مرتبہ حضور پُرنور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نماز پڑھ رہے تھے کہ ابو جہل اسی فاسد ارادے سے آیا اور حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کے قریب پہنچ کر الٹے پاؤں  ہاتھ آگے بڑھائے ہوئے (ایسے) پیچھے بھاگا (جیسے کوئی کسی مصیبت کو روکنے کے لئے ہاتھ آگے بڑھاتا ہے،اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا اور اعضاء کانپنے لگے۔) لوگوں  نے اس سے کہا:تجھے کیا ہوا ہے؟ابوجہل کہنے لگا: میرے اور محمد (مصطفی  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ ) کے درمیان ایک خندق ہے جس میں  آگ بھری ہوئی ہے اور دہشت ناک پر ندے بازو پھیلائے ہوئے ہیں ۔سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے فرمایا ’’اگر وہ میرے قریب آتا تو فرشتے اس کا عُضْوْ عُضو جدا کر ڈالتے۔( خازن ، العلق ، تحت الآیۃ : ۱۰، ۴/۳۹۴، مسلم، کتاب صفۃ القیامۃ و الجنۃ و النار، باب قولہ: انّ الانسان لیطغی... الخ، ص۱۵۰۳، الحدیث: ۳۸(۲۷۹۷))
	اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے حبیب ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ ،کیا آپ نے اس شخص کو دیکھا جو میرے کامل بندے کو نماز پڑھنے سے منع کرتا ہے ۔
اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت اور نماز پڑھنے سے روکنے کی وعید:
 	بعض مفسرین فرماتے ہیں  :اس وعید میں  ہر وہ شخص داخل ہے جو اللّٰہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے اور نماز پڑھنے سے روکے۔( خازن، العلق، تحت الآیۃ: ۹-۱۰، ۴/۳۹۴) 
	ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’ وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَاؕ-اُولٰٓىٕكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآىٕفِیْنَ۬ؕ-لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ‘‘(بقرہ:۱۱۴)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگاجو اللّٰہ کی مسجدوں  کو اس بات سے روکے کہ ان میں  اللّٰہ کا نام لیا جائے اور ان کو ویران کرنے کی کوشش کرے ۔ انہیں مسجدوں  میں  داخل ہونا مناسب نہ تھا مگر ڈرتے ہوئے۔ ان کے لئے دنیا میں  رسوائی ہے اور ان کے لئے آخرت میں  بڑا عذاب ہے۔