آیت’’ اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ‘‘سے حاصل ہونے والی معلومات:
اس آیت سے دو باتیں معلوم ہوئیں
(1)… ایمان، اعمال پر مقدم ہے اورایمان کے بغیرکوئی نیکی درست نہیں ۔
(2)… لمبی عمر ملنا اور اعمال کا نیک ہونا بہت بڑی نعمت ہے۔حضرت ابو بکرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’ایک اَعرابی نے بارگاہِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ میں عرض کی: یا رسولَ اللّٰہ! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ، لوگوں میں سب سے بہتر کون ہے؟ارشاد فرمایا: ’’وہ شخص سب سے بہتر ہے جس کی عمر لمبی ہو اور عمل نیک ہوں ۔ اس نے عرض کی:لوگوں میں سب سے برا کون ہے؟ ا رشاد فرمایا:’’وہ شخص سب سے برا ہے جس کی عمر لمبی ہو اور عمل برے ہوں ۔( ترمذی، کتاب الزہد، ۲۲-باب منہ، ۴/۱۴۸، الحدیث: ۲۳۳۷)
فَمَا یُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّیْنِؕ(۷) اَلَیْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِیْنَ۠(۸)
ترجمۂکنزالایمان: تو اب کیا چیز تجھے انصاف کے جھٹلانے پر باعث ہے۔کیا اللّٰہ سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو اب کون سی چیز تجھے انصاف کے جھٹلانے پر آمادہ کرتی ہے۔کیا اللّٰہ سب حاکموں سے بڑھ کر حاکم نہیں ؟
{فَمَا یُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّیْنِ: تو اب کونسی چیز تجھے انصاف کے جھٹلانے پر آمادہ کرتی ہے۔ } یعنی اے کافر انسان! کیا تو نے اپنی صورت میں ،اپنی تخلیق کی ابتداء میں ،اپنی جوانی اور بڑھاپے میں غور نہیں کیا تاکہ تو یہ کہہ دیتا کہ جو ذات ان چیزوں پر قادر ہے وہ اس بات پر بھی قادر ہے کہ مجھے مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کر دے اور مجھ سے میرے اعمال کا حساب لے اور اس قطعی دلیل اور روشن حجت کے بعد اب کونسی چیز تجھے انصاف کے دن کو جھٹلانے پر آمادہ کرتی ہے اور تو اللّٰہ تعالیٰ کی یہ قدرتیں دیکھنے کے باوجود کیوں مرنے کے بعد اٹھائے جانے ،قیامت کے دن حساب ہونے اور اعمال کی جزا ملنے کا انکار کرتا ہے۔( خازن، والتین ، تحت الآیۃ: ۷، ۴/۳۹۱، ملخصاً)