Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
757 - 881
مِنْكُمْ مَّنْ یُّرَدُّ اِلٰۤى اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِكَیْلَا یَعْلَمَ مِنْۢ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْــٴًـا‘‘(حج:۵)
ہیں  اسے ایک مقرر مدت تک ٹھہرائے رکھتے ہیں  پھر تمہیں  بچے کی صورت میں  نکالتے ہیں پھر (عمر دیتے ہیں )تا کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو اور تم میں  کوئی پہلے ہی مرجاتا ہے اور کوئی سب سے نکمی عمر کی طرف لوٹایا جاتا ہے تاکہ (بالآخر)جاننے کے بعد کچھ نہ جانے۔ 
اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ اَجْرٌ غَیْرُ مَمْنُوْنٍؕ(۶)
ترجمۂکنزالایمان: مگر جو ایمان لائے اور اچھے کام کئے کہ انہیں  بے حد ثواب ہے۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: مگر وہ لوگ جو ایمان لائے اورانہوں  نے اچھے کام کئے تو ان کے لئے بے انتہاء ثواب ہے۔
{اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا: مگر وہ لوگ جو ایمان لائے۔ } یعنی جو لوگ ایمان لائے اورانہوں  نے اچھے کام کئے تو ان کیلئے  بے انتہا ثواب ہے اگرچہ بڑھاپے کی کمزوری کے باعث وہ جوانی کی طرح کثیر عبادات بجا نہ لا سکے اور ان کے عمل کم ہو جائیں  لیکن اللّٰہ تعالیٰ کے کرم سے انہیں  وہی اجر ملے گا جو جوانی اور قوت کے زمانہ میں  عمل کرنے سے ملتا تھا اور ان کے اتنے ہی عمل لکھے جائیں  گے جتنے جوانی میں  لکھے جاتے تھے اور جہنم کے سب سے نچلے دَرکات ان کا ٹھکانہ نہ ہو گا۔( خازن، والتین، تحت الآیۃ: ۶، ۴/۳۹۱، مدارک، التین، تحت الآیۃ: ۶، ص۱۳۶۱، ملتقطاً) 
	اسی طرح کا معاملہ ایک حدیث پاک میں  بھی بیان کیاگیا ہے ،چنانچہ حضرت ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، رسول ُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’مسلمان بندہ جب بیمار ہو جائے یا سفر میں  ہو تو ا س کے لئے ان اعمال کا ثواب لکھا جائے گاجو وہ تندرست اور مقیم ہونے کی حالت میں  کیا کرتا تھا(لیکن بیماری یا سفر کی وجہ سے نہ کر پایا)۔( مسند امام احمد، مسند الکوفیین، حدیث ابی موسی الاشعری رضی اللّٰہ تعالی عنہ، ۷/۱۷۷، الحدیث: ۱۹۷۷۴)