Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
753 - 881
{وَالتِّیْنِ وَالزَّیْتُوْنِ: انجیر کی قسم اور زیتون کی۔ } اس آیت میں  اللّٰہ تعالیٰ نے انجیر اور زیتون کی قسم ارشاد فرمائی کیونکہ ان چیزوں  میں  ایسے فوائد اور منافع موجود ہیں  جو ان کے خالق، رب تعالیٰ کی قدرت پر دلالت کرتے ہیں ،جیسے انجیر انتہائی عمدہ میوہ ہے جس میں  فُضلہ نہیں  اور یہ بہت جلد ہضم ہونے والا،زیادہ نفع والا،،قبض دور کر دینے والا،مثانے میں  موجود ریت اور پتھری نکال دینے والا ،جگر اور تلی میں  پھنسی گندے مواد کی گانٹھ کوکھول دینے والا، بدن کو فربہ کرنے والا اوربلغم کو چھانٹنے والا ہے جبکہ زیتون ایک مبارک درخت ہے، اس کا تیل روشنی کے کام لایا جاتا ہے ، سالن کی طرح کھایا بھی جاتا ہے اوریہ وصف دنیا کے کسی تیل میں  نہیں  ،اس کا درخت خشک پہاڑوں میں  پیدا ہوتا ہے جن میں  چکنائی کا نام و نشا ن نہیں ، بغیر خدمت کے پرورش پاتا ہے اور ہزاروں  برس باقی رہتا ہے۔( خازن، والتین، تحت الآیۃ: ۱، ۴/۳۹۰، روح البیان، التین، تحت الآیۃ: ۱، ۱۰/۴۶۶-۴۶۷، ملتقطاً)
انجیر اور زیتون کے بارے میں  اَحادیث:
	انجیر کے بارے میں  حضرت ابو ذر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے،نبی اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’انجیر کھاؤ،اگر میں  کہوں  کہ یہ وہ پھل ہے جو کہ جنت سے نازل ہو اہے تو کہہ سکتا ہوں  کیونکہ جنت کے پھل میں  گٹھلی نہیں  ہوتی تو اسے کھاؤ کیونکہ یہ بواسیر کو ختم کرتا اور گنٹھیا کے درد میں  فائدہ پہنچاتا ہے۔( مسند فردوس، باب الکاف، ۳/۲۴۳، الحدیث: ۴۷۱۶)
	اورزیتون کے بارے میں  ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا: ’’ وَ شَجَرَةً تَخْرُ جُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِیْنَ‘‘(مؤمنون:۲۰)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور (ہم نے) درخت (پیدا کیا )جوطور سینا پہاڑ سے نکلتا ہے، تیل اور کھانے والوں  کے لیے سالن لے کر اگتا ہے۔
	اورحضرت معاذ بن جبل رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ  سے روایت ہے، حضورِ انور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’برکت والے درخت زیتون کی مسواک بہت اچھی ہے کیونکہ یہ منہ کو خوشبودار کرتی اور اس کی بدبو زائل کرتی ہے،یہ میری اور مجھ سے پہلے انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مسواک ہے۔( معجم الاوسط، باب الالف، من اسمہ: احمد، ۱/۲۰۱، الحدیث: ۶۷۸)