{وَطُوْرِ سِیْنِیْنَ: اورطورِ سینا کی۔ } طور وہ پہاڑ ہے جس پر اللّٰہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو اپنے ساتھ کلام کرنے سے مشرف فرمایا اور سینااس جگہ کا نام ہے جہاں یہ پہاڑ واقع ہے اور ا س جگہ کو سینا ا س کے خوش مَنظر ہونے یا مبارک ہونے کی وجہ سے کہتے ہیں ۔بعض مفسرین کے نزدیک طورِ سیناسے مراد خوش منظر یا مبارک پہاڑ ہے اور بعض مفسرین کے نزدیک ہر اس پہاڑ کو طورِ سینا کہتے ہیں جہاں کثرت سے پھل دار درخت ہوں ۔( تفسیر کبیر، التین، تحت الآیۃ: ۲، ۱۱/۲۱۱-۲۱۲)
اس سے معلوم ہوا کہ جس جگہ اور مقام کو اللّٰہ تعالیٰ کے مقبول بندوں کے ساتھ نسبت حاصل ہو جائے وہ جگہ بھی اللّٰہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عظمت والی ہو جاتی ہے۔
{وَهٰذَاالْبَلَدِالْاَمِیْنِ: اور اس امن والے شہر کی۔ } یعنی اور اس امن والے شہر مکہ مکرمہ کی قسم! امام عبد اللّٰہ بن احمد نسفی رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ فرماتے ہیں : ’’انجیر، زیتون،طورِ سینا اور مکہ مکرمہ کی قسم ذکر فرمانے سے ان بابرکت مقامات کی عظمت و شرافت ظاہر ہوئی اور انبیاء عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاء رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کے ان مقامات پر رہنے کی وجہ سے ظاہر ہونے والی خیر وبرکت واضح ہوئی،چنانچہ جس جگہ انجیر اور زیتون اُگتا ہے وہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ہجرت گاہ ہے اور حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی ولادت اور پرورش بھی اسی جگہ ہوئی۔طور وہ جگہ ہے جہاں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو ندا دی گئی اور مکہ مکرمہ میں تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی ولادت ہوئی،اسی شہر میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے اپنی نبوت و رسالت کا اعلان فرمایا اورا سی شہر میں خانہ کعبہ ہے (جس کی طرف منہ کر کے پوری دنیا کے مسلمان نماز پڑھتے ہیں )۔( مدارک، التین، تحت الآیۃ: ۳، ص۱۳۶۰)
لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِیْۤ اَحْسَنِ تَقْوِیْمٍ٘(۴)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک ہم نے آدمی کو اچھی صورت پر بنایا ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک یقینا ہم نے آدمی کو سب سے اچھی صورت میں پیدا کیا ۔