کر ارشاد فرمایا کہ بیشک ہم نے آدمی کو سب سے اچھی صورت میں پیدا کیا ہے۔
(2)…یہ بتایاگیا کہ اگر آدمی نے اللّٰہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اقرار نہیں کیا اور نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی تصدیق نہ کی تو اسے جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ڈال دیا جائے گا اور جن لوگوں نے اللّٰہ تعالیٰ کو واحد معبودمانا، اس کے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی تصدیق کی اور انہوں نے اچھے کام کئے تو ان کیلئے بے انتہاء ثواب ہے۔
(3)…اس سورت کے آخر میں مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے اور حساب و جزاء کا انکار کرنے والے کی مذمت بیان کی گئی ہے۔
سورۂ اَلَمْ نَشْرَحْ کے ساتھ مناسبت:
سورۂ وَ التِّیْنِکی اپنے سے ما قبل سورت ’’اَلَمْ نَشْرَحْ‘‘ کے ساتھ مناسبت یہ ہے کہ سورۂ اَلَمْ نَشْرَحْمیں تخلیق اور خُلق کے اعتبار سے سب سے کامل انسان کی شخصیت اور سیرتِ مبارکہ بیان کی گئی اور اس سورت میں نوعِ انسانی کا حال بیان کیا گیا ہے ۔
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ترجمۂکنزالایمان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان رحم والا۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ، رحمت والاہے ۔
وَ التِّیْنِ وَ الزَّیْتُوْنِۙ(۱) وَ طُوْرِ سِیْنِیْنَۙ(۲) وَ هٰذَا الْبَلَدِ الْاَمِیْنِۙ(۳)
ترجمۂکنزالایمان: انجیر کی قسم اور زیتون ۔اور طورِ سینا ۔اور اس امان والے شہر کی ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: انجیر کی قسم اور زیتون کی۔اور طورِ سینا کی۔اور اس امن والے شہر کی۔