Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
751 - 881
سورۂ وَالتِّیْنْ
سورۂ وَالتِّیْنِ کا تعارف
مقامِ نزول:
	سورۂوَالتِّیْنِ مکہ مکرمہ میں  نازل ہوئی ہے۔ (خازن، تفسیر سورۃ والتین، ۴/۳۹۰)
رکوع اور آیات کی تعداد:
	 اس سورت میں  1رکوع، 8آیتیں  ہیں ۔
’’ وَ التِّیْنِ ‘‘نام رکھنے کی وجہ :
	انجیر کو عربی میں  وَالتِّیْنِ کہتے ہیں ،اور اس سورت کی پہلی آیت میں  اللّٰہ تعالیٰ نے انجیر کی قسم ارشاد فر مائی ہے اس مناسبت سے اسے ’’سورۂ وَ التِّیْنِ ‘‘ کہتے ہیں ۔
سورۂ وَ التِّیْنِ سے متعلق حدیث:
	حضرت براء بن عازب رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں :میں  نے عشاء کی نماز میں  حضورپُر نور  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ’’وَ التِّیْنِ وَ الزَّیْتُوْنِ‘‘ کی تلاوت کرتے ہوئے سنا،میں  نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  سے زیادہ اچھی آواز کے ساتھ قراء ت کرتے ہوئے کسی کو نہیں  سنا۔( بخاری، کتاب التوحید، باب قول النبی صلّی اللّٰہ علیہ وسلّم الماہر بالقرآن... الخ، ۴/۵۹۳، الحدیث: ۷۵۴۶)
سورۂ وَ التِّیْنِ کے مضامین:
	اس سورت کا مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں  انسان اور اس کے عقیدے سے متعلق کلام کیا گیا ہے اور اس میں  یہ مضامین بیان ہوئے ہیں :
(1)…اس سورت کی ابتداء میں  اللّٰہ تعالیٰ نے انجیر،زیتون،مبارک پہاڑ طورِ سینااور امن والے شہر مکہ مکرمہ کی قسم کھا