Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
750 - 881
ارشاد فرمایا: ’’شبِ معراج میراگزرایسے لوگوں  کے پاس سے ہواجن کے ہونٹ آگ کی قینچیوں  سے کاٹے جارہے تھے، جب بھی ان کوکاٹاجاتاتوو ہ دوبارہ جڑجاتے اورپھران کوکاٹاجاتا۔میں  نے پوچھا:اے جبرائیل عَلَیْہِ السَّلَام ! یہ کون لوگ ہیں ؟انہوں  نے عرض کی:یہ آپ کی امت کے وہ خطیب ہیں  جولوگوں  کو تو نیکی کی دعوت دیتے تھے لیکن اپنی جانوں  کو بھول جاتے تھے حالانکہ وہ قرآن کی تلاوت کرتے تھے ،کیا وہ عقل نہیں  رکھتے تھے۔( مسند ابو یعلی، مسند انس بن مالک، ما اسندہ علیّ بن زید عن انس، ۳/۳۷۰، الحدیث: ۳۹۷۹)
وَ اِلٰى رَبِّكَ فَارْغَبْ۠(۸)
ترجمۂکنزالایمان: اور اپنے رب ہی کی طرف رغبت کرو ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور اپنے رب ہی کی طرف رغبت رکھو۔
{وَ اِلٰى رَبِّكَ فَارْغَبْ: اور اپنے رب ہی کی طرف رغبت رکھو۔ } یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ ، آپ خاص طور پر اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف رغبت رکھیں ،اسی کے فضل کے طالب رہیں  اور اسی پر توکُّل کریں ۔( مدارک، الشرح، تحت الآیۃ: ۸، ص۱۳۵۹)
اللّٰہ تعالیٰ پر توکُّل کرنے اور اس کا فضل مانگنے کی ترغیب:
	اس آیت سے معلوم ہوا کہ ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اللّٰہ تعالیٰ پر توکُّل کرے اور اللّٰہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگے۔ ایک اور مقام پر اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ’’ وَ  عَلَى  اللّٰهِ  فَلْیَتَوَكَّلِ  الْمُؤْمِنُوْنَ ‘‘(ابراہیم:۱۱)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اور مسلمانوں  کو اللّٰہ ہی پر بھروسہ کرناچاہیے۔
	اور حضرت عبد اللّٰہ بن مسعود رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ اللّٰہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگو کہ اللّٰہ تعالیٰ مانگنے کو پسند فرماتا ہے۔( ترمذی، احادیث شتی، باب فی انتظار الفرج وغیر ذلک، ۵/۳۳۳، الحدیث: ۳۵۸۲)