خطاب میں جوش اور ولولہ نمایا ں نظر آتا ہے،جماعت چھوڑنے،نماز قضا کرنے یا بالکل ہی نہ پڑھنے کی سزاؤں پر مشتمل آیات و اَحادیث رورو کر سنا رہے ہوتے ہیں لیکن اس سے فارغ ہونے کے بعد نماز کے معاملے میں ان کی اپنی سستی کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ فجر کی نماز جماعت کے بغیر یا قضا کر کے پڑھتے ہیں اور دیگر نمازوں کی ادائیگی میں بھی انتہائی سستی سے کام لیتے ہیں ۔ایسے حضرات کو چاہئے کہ ان آیات اور اَحادیث کو پڑھ کر اپنی عملی حالت اور ا س کی جزاء کے بارے میں خود ہی غور کر لیں ۔چنانچہ اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لِمَ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ(۲)كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللّٰهِ اَنْ تَقُوْلُوْا مَا لَا تَفْعَلُوْنَ‘‘(صف:۲،۳)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اے ایمان والو ! وہ بات کیوں کہتے ہوجو کرتے نہیں ۔اللّٰہ کے نزدیک یہ بڑی سخت ناپسند یدہ بات ہے کہ تم وہ کہو جو نہ کرو۔
اور ارشاد فرمایا:
’’ اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَ تَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَؕ-اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ‘‘(بقرہ:۴۴)
ترجمۂکنزُالعِرفان: کیا تم لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتے ہو اوراپنے آپ کو بھولتے ہو حالانکہ تم کتاب پڑھتے ہو تو کیا تمہیں عقل نہیں ۔
اورحضرت اسامہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول ُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’ قیامت کے دن ایک شخص کولایاجائے گا،پھراس کودوزخ میں ڈال دیاجائے گا یہاں تک کہ اس کی انتڑیاں دوزخ میں بکھرجائیں گی اوروہ اس طرح گرد ش کررہاہوگاجس طرح چکی کے گردگدھاگردش کرتاہے۔جہنمی اس کے گرد جمع ہوکراس سے کہیں گے :اے فلاں !کیابات ہے تم توہم کونیکی کی دعوت دیتے اوربرائی سے منع کرتے تھے(اور تم یہاں عذاب میں مبتلاء ہو)! وہ کہے گا:میں تم کونیکی کی دعوت دیتاتھااورخود نیک کام نہیں کرتاتھااورمیں تم کوتوبرائی سے روکتا تھا لیکن خودبرے کام کرتاتھا۔( بخاری، کتاب بدء الخلق، باب صفۃ النار وانّہا مخلوقۃ، ۲/۳۹۶، الحدیث: ۳۲۶۷)
اور حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے،حضورِ اَقدس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ نے