Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
748 - 881
ترجمۂکنزالایمان: تو جب تم نماز سے فارغ ہو تو دعا میں  محنت کرو ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو جب تم فارغ ہو تو خوب کوشش کرو۔
{فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْ: تو جب تم فارغ ہو تو خوب کوشش کرو۔} اس آیت کی ایک تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی  اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِوَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ، جب آپ نماز سے فارغ ہو جائیں  تو آخرت کے لئے دعا کرنے میں  محنت کریں  کیونکہ نماز کے بعد دعا مقبول ہوتی ہے۔ اس آیت میں  مذکور دعا کے بارے میں  اختلاف ہے کہ اس سے کونسی دعا مراد ہے، بعض مفسرین کے نزدیک اس سے وہ دعا مراد ہے جو نماز کے آخر میں  نماز کے اندر مانگی جاتی ہے اور بعض مفسرین کے نزدیک اس سے وہ دعا مراد ہے جو سلام پھیرنے کے بعد مانگی جاتی ہے۔دوسری تفسیر یہ ہے کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ  سَلَّمَ ، جب آپ مخلوق کو دین کی دعوت دینے سے فارغ ہو جائیں  تو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ  کی عبادت کرنے میں  مشغول ہو جائیں ۔( مدارک، الشرح، تحت الآیۃ: ۷، ص ۱۳۵۹، ملخصاً)
آیت’’ فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْۙ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:
	اس آیت سے تین باتیں  معلوم ہوئیں 
(1)… نماز کے بعد خاص طور پر اللّٰہ تعالیٰ سے دعا کرنی چاہئے کہ اللّٰہ تعالیٰ نماز کے بعدکی گئی دعائیں  قبول فرماتا ہے۔
(2)… بندے کو فارغ نہیں  رہنا چاہئے اور نہ ہی کسی ایسے کام میں  مشغول ہونا چاہئے جس کا کوئی دینی یا دُنْیَوی فائدہ نہ ہو۔ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسول ُاللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  نے ارشاد فرمایا: ’’انسان کے اسلام کی خوبیوں  میں  سے ایک خوبی یہ ہے کہ وہ ا س چیز کو چھوڑ دے جو اسے فائدہ نہ دے۔( ترمذی، کتاب الزہد، ۱۱-باب، ۴/۱۴۲، الحدیث: ۲۳۲۴)
(3)… جو خطیب،واعظ اور مُبَلِّغ حضرات رات گئے تک مَحافل اور اجتماعات میں  عوامُ النّاس کے سامنے خطاب، تقریر اور بیان کرتے ہیں ،انہیں  بھی چاہئے کہ وہ اس کام سے فارغ ہونے کے بعد اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کی کوشش کریں ۔ لیکن افسوس کہ فی زمانہ ایسے حضرات کی ایک تعداد ایسی ہے کہ جو آدھی رات بلکہ ا س سے بعد تک بھی محافل اور اجتماعات میں  اپنے خطاب ،تقریر اور بیان کرنے کے معاملے میں  تو انتہائی چست نظر آتے ہیں  اور ان کے