Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
747 - 881
مشکلات سے گھبرانا نہیں  چاہئے:
	اس آیت سے معلوم ہو اکہ کسی مشکل ،مصیبت یا دشواری کے ا ٓجانے کی وجہ سے گھبرانا نہیں  چاہئے بلکہ اللّٰہ تعالیٰ سے مشکل اور مصیبت دور ہو جانے اور دشواری آسان ہو جانے کی امید رکھتے ہوئے دعا کرنی چاہئے،اللّٰہ تعالیٰ نے چاہا تو بہت جلد آسانی مل جائے گی۔اللّٰہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’ لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا مَاۤ اٰتٰىهَاؕ-سَیَجْعَلُ اللّٰهُ بَعْدَ عُسْرٍ یُّسْرًا۠‘‘( طلاق:۷)
ترجمۂکنزُالعِرفان: اللّٰہ کسی جان پر بوجھ نہیں  رکھتا مگر اسیابل جتنا اسے دیا ہے، جلد ہی اللّٰہ دشواری کے بعد آسانی فرمادے گا۔
اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاؕ(۶)
ترجمۂکنزالایمان: بیشک دشواری کے ساتھ اور آسانی ہے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔
{اِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا: بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔} اس آیت کو دوبارہ ذکر کرنے سے معلوم ہواکہ ایک تنگی کے بعد دو سہولتیں  اور آسانیاں  ہیں ۔ حضرت حسن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’ایک دن نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  (اپنے کاشانۂ اقدس سے) خوشی اور سُرُور کی حالت میں  مسکراتے ہوئے باہر تشریف لائے اورارشاد فرمایا ’’ایک تنگی دو آسانیوں  پر ہر گز غالب نہیں  آئے گی،تو بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔ (مستدرک، کتاب التفسیر، تفسیر سورۃ الم نشرح، ۳/۳۸۰، الحدیث: ۴۰۰۴)
فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْۙ(۷)