Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
746 - 881
اٹھے ۔ لاکھوں  بے دینوں  نے ان کے محوِ فضائل پر کمر باندھی ، مگر مٹانے والے خود مٹ گئے اور ان کی خوبی روز بروز مترقی رہی ۔( فتاوی رضویہ، ۳۰/۷۱۸-۷۱۹)
رفعتِ ذکر ہے تیرا حصّہ دونوں  عالَم میں  ہے تیرا چرچا	مرغِ فردوس پس از حمد ِخدا تیری ہی مدح و ثنا کرتے ہیں
	اور فرماتے ہیں  :
وَ رَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ کا ہے سایہ تجھ پر			بول بالا ہے ترا ذِکر ہے اُونچا تیرا
مِٹ گئے مٹتے ہیں  مٹ جائیں  گے اعدا تیرے		نہ مٹا ہے نہ مٹے گا کبھی چرچا تیرا
تو گھٹائے سے کسی کے نہ گھٹا ہے نہ گھٹے			جب بڑھائے تجھے اللّٰہ تعالیٰ تیرا
فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًاۙ(۵)
ترجمۂکنزالایمان: تو بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے ۔
ترجمۂکنزُالعِرفان: تو بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔
{فَاِنَّ مَعَ الْعُسْرِ یُسْرًا: تو بیشک دشواری کے ساتھ آسانی ہے۔ } یعنی اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ ،جو شدت اور سختی آپ کفارکے مقابلے میں  برداشت فرمارہے ہیں ، اس کے ساتھ ہی آسانی ہے کہ ہم آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو ان پر غلبہ عطا فرمائیں  گے۔
	بعض مفسرین نے فرمایا کہ مشرکین رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  اور صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ کو فقر کی وجہ سے عار دلاتے تھے یہاں  تک کہ نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو یہ گمان ہوا کہ مسلمانوں  کی تنگدستی ان کفارکے اسلام قبول کرنے میں  رکاوٹ ہے،اس پر اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ اے حبیب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ ، آپ ان کافروں  کی باتوں  سے غمزدہ نہ ہوں  عنقریب تنگدستی کی یہ دشواری ختم ہو جائے گی۔( مدارک، الشرح، تحت الآیۃ: ۶، ص ۱۳۵۸، خازن الم نشرح، تحت الآیۃ: ۶، ۴/۳۸۹، ملتقطاً)