Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
745 - 881
(3)…رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے ذکر کی بلندی یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے اپنے نام کی طرف ان کے نام کی نسبت کی ہے اور نبوت و رسالت کے وصف کے ساتھ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کا ذکر کیا جبکہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے علاوہ دیگر انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا ذکر ان کے اَسماء کے ساتھ کیا ہے۔
(4)… سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کے ذکر کی بلندی یہ ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ نے انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَ السَّلَام سے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ پر ایمان لانے کا عہد لیا۔( تاویلات اہل السنہ، الشرح، تحت الآیۃ: ۴، ۵/۴۸۲، تفسیر بغوی، الشرح، تحت الآیۃ: ۴، ۴/۴۶۹، ملتقطاً)
	اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رَحْمَۃُاللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس آیت سے متعلق فرماتے ہیں  :یعنی ارشاد ہوتا ہے اے محبوب ہمارے !ہم نے تمہارے لئے تمہارا ذکر بلند کیا کہ جہاں  ہماری یا دہوگی تمہارا بھی چرچاہوگا اور ایمان بے تمہاری یاد کے ہرگز پورا نہ ہوگا،آسمانوں  کے طبقے اورزمینوں  کے پردے تمہارے نامِ نامی سے گونجیں  گے ، مؤذن اذانوں  اور خطیب خطبوں  اورذاکرین اپنی مجالس اور واعظین اپنے مَنابر پر ہمارے ذکر کے ساتھ تمہاری یا د کریں  گے ۔ اشجار واَحجار، آہُو وسوسمار(یعنی ہرن اور گوہ)ودیگر جاندار واطفالِ شیرخوار ومعبودانِ کفار جس طرح ہماری توحید بتائیں  گے ویسا ہی بہ زبان فصیح وبیان صحیح تمہارامنشورِ رسالت پڑھ کر سنائیں  گے ، چار اَکنافِ عالَم میں  لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ کا غلغلہ ہوگا، جز (سوائے)اشقیائے ازل ہر ذرہ کلمۂ شہادت پڑھتا ہوگا، مسبحانِ ملاء اعلیٰ کو ادھر اپنی تسبیح وتقدیس میں  مصروف کروں  گا اُدھر تمہارے محمود، درودِ مسعود کا حکم دوں  گا ۔عرش وکرسی، ہفت اوراقِ سدرہ ، قصورِجناں ، جہاں  پر اللّٰہ  لکھوں  گا، مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ بھی تحریر فرماؤں  گا ، اپنے پیغمبروں  اور اولُوا الْعزم رسولوں  کو ارشاد کروں  گا کہ ہر وقت تمہار ادم بھریں  اورتمہاری یاد سے اپنی آنکھوں  کو روشنی اورجگر کو ٹھنڈک اورقلب کو تسکین اور بزم کو تزئین دیں  ۔ جو کتاب نازل کروں  گا اس میں  تمہاری مدح وستائش اورجمالِ صورت وکمالِ سیرت ایسی تشریح وتوضیح سے بیان کروں  گا کہ سننے والوں  کے دل بے اختیار تمہاری طرف جھک جائیں  اورنادیدہ تمہارے عشق کی شمع ان کے کانوں  ، سینوں  میں  بھڑک اٹھے گی ۔ ایک عالَم اگر تمہارادشمن ہوکر تمہاری تنقیصِ شان اورمحوِ فضائل میں  مشغول ہوتو میں  قادرِ مُطلق ہوں  ، میرے ساتھ کسی کا کیا بس چلے گا۔ آخر اسی وعدے کا اثر تھا کہ یہود صدہا برس سے اپنی کتابوں  سے ان کا ذکر نکالتے اورچاند پر خاک ڈالتے ہیں  تو اہلِ ایمان اس بلند آواز سے ان کی نعت سناتے ہیں  کہ سامع اگر انصاف کرے بے ساختہ پکار