Brailvi Books

صراط الجنان جلددہم
736 - 881
سورۂ اَلَمْ نَشْرَحْ
سورۂ اَلَمْ نَشْرَحْ کا تعارف
مقامِ نزول:
	سورۂ اَلَمْ نَشْرَحْ مکہ مکرمہ میں  نازل ہوئی ہے۔( خازن، تفسیرسورۃ الم نشرح،۴/۳۸۸)
رکوع اور آیات کی تعداد:
	 اس سورت میں  1رکوع ، 8آیتیں  ہیں ۔
’’ اَلَمْ نَشْرَحْ ‘‘ نام رکھنے کی وجہ :
	اس سورت کے تین نام ہیں  (1)سورۂ شرح۔(2)سورۂ اِنشراح۔(3)سورۂ اَلَمْ نَشْرَحْ ، اور یہ تینوں  نام اس سورت کی پہلی آیت سے ماخوذ ہیں ۔
سورۂ اَلَمْ نَشْرَحْ کے مضامین:
	اس سورت کامرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں  تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی شخصیت اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کی سیرتِ مبارکہ پر کلام کیا گیا ہے اور اس میں  یہ مَضامین بیان ہوئے ہیں  ۔
(1)…اس سورت کی ابتداء میں  سیّد المرسَلین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ  کو عطا کی گئی نعمتیں  بیان کی گئیں  کہ اللّٰہ تعالیٰ نے آپ کی خاطر ہدایت ، معرفت،نصیحت، نبوت اور علم وحکمت کے لئے آپ کے سینۂ اَقدس کو کشادہ اور وسیع کر دیا اور شفاعت قبول کئے جانے والا بنا کر آپ کے اوپر سے امت کے گناہوں  کے غم کا وہ بوجھ دور کردیا جس نے آپ کی پیٹھ توڑی تھی اور آپ کی خاطر آپ کا ذکر بلند کردیا۔
(2)…مشکلات و مَصائب کے بعد آسانیاں  عطا کرنے کا وعدہ فرمایا گیا۔
(3)…اس سورت کے آخر میں  نماز سے فارغ ہونے کے بعدآپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَ سَلَّمَ کوآخرت کے لئے دعا